ابن رشد

by Other Authors

Page 20 of 161

ابن رشد — Page 20

نے کے بجائے فلسفہ کے مسائل سلجھانے میں مصروف ہیں۔سرنا مس آرنلڈ کا یہی نقطہ نظر ہے اور پروفیسر مائٹ گمری واٹے نے بھی اس امر کی تائید کی ہے کہ علمائے وقت کا سیاسی اثر اس وقت ملک میں بہت گہرا تھا، وہ کہتے ہیں: The Almohads had at times to make concessions in order to retain the goodwill of the jurists is perhaps a pointer to the most serious weakness of the Almohads - the lack of popular support۔(7) (7) ممتاز مورخ ابن خلدون نے خلیفہ منصور کے سلسلہ غزوات کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ 1197ء میں اشبیلیہ واپس آیا تو کے متعلق اس کی خدمت میں ایسے مقالے پیش کئے گئے جن سے اس کی بے دینی اور بد عقیدگی ثابت ہوتی تھی۔ان میں بعض مقالے خود اس کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے تھے اس لئے منصور نے اس کو قید کر دیا ( ابن خلدون، کتاب العبر، جلد ششم صفحه 245) (8) کے فرانسیسی سوانح نگار ارنسٹ رینان کی رائے میں خاندان بنورشد کے لوگ اپنے اندلسی ہونے پر فخر کرتے تھے اور مشرقی عربوں کو نیچی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ان کے نزدیک اندلسی عربوں میں ارفع خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے عرب اور بر بر اقوام کی تہذیب اور اعلیٰ اقدار کو اپنا کر اندلس کی علمی فضاء کو مزید تقویت دی۔اس امر کا ذکر نے افلاطون کی کتاب جمہوریہ کی شرح (1194ء) میں کیا تھا۔اس دور میں بھی آج کی طرح حکمراں طبقہ اشراف پر تنقید کرنا گویا آبیل مجھے مار کے مترادف تھا۔بہر حال رینان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ابن رشد کی نظر بندی کا سبب قطعی طور پر سیاسی نوعیت کا تھا۔خلیفہ منصور کا شاہی فرمان خلیفہ منصور کے شاہی فرمان کو اس کے کا تب (سکریٹری ) ابو عبد اللہ ابن عیاش نے نہایت معلمی و سمع عبارت میں لکھا تھا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے : " قدیم زمانے میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہو گئے تھے جو وہم کے پیروکار تھے۔لیکن ان کی عقل کے کمال کی وجہ سے عوام ان کے گرویدہ ہو گئے۔ان لوگوں نے ایسی کتابیں لکھیں جو شریعت سے اس قدر دور تھیں جس قدر مشرق و مغرب میں دوری ہے۔ان لوگوں ( فلاسفہ ) کی تقلید میں اسلام میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو گئے جو اہل کتاب سے زیادہ نقصان دہ تھے۔ان کے علم کا زہر ملک میں پھیلنے لگا تو ہم نے ایک مدت تک تعرض نہیں کیا لیکن اس سے ان کی ہمت اور بڑھ گئی۔آخر کار ہمیں ان کی چند ایسی ذلت آمیز کتابیں میں جو بظاہر 20