ابن رشد — Page 22
بہر حال کے دشمنوں کو برا بھلا کہنے کا موقع نصیب ہو گیا تھا۔شعراء نے طنز آمیز اشعار لکھے۔ان شعراء میں سے مشہور سیاح ابن جبیر اندلسی (مصنف رحلہ ) کے چند اشعار یہاں نقل کئے جاتے ہیں : الآن قد ایقن ان توالیف توالف اب تو کو یقین آگیا کہ اس کی تالیفات تلف ہو گئیں یا ظالماً نفسه تامل هل تجد اليوم من توالف اے وہ شخص جس نے اپنے او پر ظلم کیا غور کر کہا تو کسی کو اپنا دوست پاتا ہے لم تلزم الرشد با بن رشد لما علا في الزمان جدك اے جب تیر از مانہ تھا تو تو نے رشد و ہدایت کی پابندی نہیں کی و كنت في الدین ذراء يا ما هكذا كان فيه جدك تو نے مذہب کے متعلق ریا کارانہ طریقہ اپنایا تیرے دادا کا یہ طریق نہ تھا نفذ القضا با خذ كل ممده متفلسف في دينه متزندق تقدیر نے ہر طمع ساز فلسفی کو مذہب سے ملانے والے زندیق کو گرفتار کرا دیا بالمنطق اشتغلو فقيل حقيقه ان البلاء مركل بالمنطق وہ منطق میں مشغول ہوا اور یہ بات سچ ثابت ہوئی کہ مصیبت کی جڑ منطق ہے ایک اور شاعر نے یوں طبع آزمائی کی: بلغت امیر الؤمنین می المنى لانك قد بلغتنا ما تؤمل قصدت الى الاسلام تعلى مناره ومقصدك الا سنى لدى الله يقبل تدارکت دين الله في اخذ فرقة بمنطقهم كان البلاء المؤكل آثار و على الدين الحنيفي فتنة لها نارغي في العقائد تشعل اقمتهم للناس يبراء منهم واوعزت في الاقطار با لبحث عنهم وقد كان للسيف اشتياق لهم ووجه الهدى من خزيهم بتهلل وعن كتبهم والسعي في ذالك اجمل ولكن مقام الخزي للنفس اقتل 22