ابن رشد

by Other Authors

Page 17 of 161

ابن رشد — Page 17

رسوائی کے اسباب خلیفہ ابو يوسف يعقوب المنصور مطلق العنان بادشاہ تھا۔جو لوگ شاہی دربار میں بارسوخ اور بادشاہ کے قریب ہوتے تھے ان کی جان ہر وقت سولی پر چڑھی رہتی تھی کہ اگر بادشاہ کی نظر عنایت پھر گئی تو ان کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔بادشاہ کسی اصول زندگی کے پابند نہیں ہوتے ، ان کے یہاں ہر وقت سازشیوں کا مجمع لگا رہتا تھا، ہر کوئی مطلب براری کے لئے تگ ورد کرتا تھا۔سازشیوں کا مقصد سلطنت کی حفاظت کے بجائے مذہب کی آڑ میں اپنے اعداء کو زک پہچانا ہوتا تھا۔اکثر لوگ سازش کی اصل غرض کو نہیں جان پاتے۔اس حقیقت سے بخوبی با خبر تھا اس لئے اس نے کہا تھا کہ یہ خوشی کا موقعہ نہیں بلکہ رنج کا موقعہ ہے کیونکہ یہ تقرب شاید برے نتائج پیدا کرے۔خلیفہ منصور جس نے کی اس قدر عزت افزائی کی تھی وہی اس کی رسوائی کا باعث ہوا۔یہ ایک دلفگار واقعہ ہے اس لئے مورخین نے اس کے اسباب پر چھان بین اور تحقیق کے بعد جن وجوہات کو ممکن قرار دیادہ کچھ اس طرح ہیں: (1) علامہ ابن ابی اصیحہ نے طبقات الاطباء میں لکھا ہے کہ جب خلیفہ منصور کے دربار میں جاتا تھا تو دونوں میں بے تکلفی کی وجہ سے کسی علمی مسئلہ پر بحث کے دوران وہ خلیفہ کو اسمع یا اخی کہ کر مخاطب کرتا تھا۔یہ بات خلیفہ منصور کے دل میں کھنکتی تھی۔(2) خلیفہ ابو یوسف یعقوب (لقب منصور ) کا بھائی ابو یٹی جو قرطبہ کا گورنر تھا اس کے ساتھ کے دوستانہ مراسم تھے۔شاید ابوتیچی کے ساتھ اس کی بے تکلفی خلیفہ منصورکو ناگوار گزری ہو۔یا یہ وجہ ہو کہ منصورا اپنے بھائی سے ناراض تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی مقرب اس کے بھائی کے ساتھ میل جول رکھے۔(3) ایک دفعہ قرطبہ کے منجمین نے پیش گوئی کی کہ فلاں دن ہوا کا ایک ایسا طوفان آئے گا کہ تمام لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔اندلس میں یہ پیش گوئی جب زبان زد عام ہوئی تو عوام الناس اس قدر وحشت زدہ ہو گئے کہ گھروں میں تہ خانے کھود لئے۔قرطبہ کے گورنر نے شہر کے علما کو جن میں قاضی قرطبہ بھی شامل تھا، گورنر ہاؤس میں بلوا کر اس موضوع پر گفتگو کی کہ ستاروں کے اثر کے تحت اس طوفان کے متعلق ان کی کیا رائے ہے ؟ گفتگو کے دوران شیخ ابومحمد عبد الکبیر نے کہا کہ اگر ہوا کا یہ طوفان واقعی آ گیا تو قوم عاد کے بعد یہ دوسرا تباہ کن طوفان ہوگا۔اس کی یہ رائے سن کر سیخ پا ہو گیا اور کہا کہ خدا کی قسم قوم عاد کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔چونکہ یہ قرآن مجید کی آیت کریمہ 54:19 کا صریح انکار تھا اس لئے قاضی شہر کی یہ رائے سن کر محفل میں موجود علما چراغ پا ہو گئے۔17