ابن رشد

by Other Authors

Page 16 of 161

ابن رشد — Page 16

حدیث، اجماع اور قیاس کی روشنی میں کیا جاتا تھا۔خلیفہ منصور نے بھی اپنے باپ کی طرح کی بہت قدردانی کی بلکہ اس کے عہد میں کو اپنی قدرد منزلت حاصل ہوئی جتنی اس سے پہلے کسی اور کو حاصل نہیں ہوئی تھی۔کو خلیفہ المنصور کی ندیمی کا بھی فخر حاصل تھا کیونکہ خلیفہ فرصت کے اوقات میں اس کے ساتھ بے تکلف ہو کر علمی مسائل پر گفتگو کیا کرتا تھا۔یہ بے تکلفی اتنی بڑھ گئی کہ گفتگو کے دوران این رشد منصور کو اسمع یا اخی" کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔عمر کے آخری حصہ میں قرطبہ میں زیادہ وقت علمی مشاغل میں گزارتا تھا۔1195ء میں خلیفہ منصور کو اطلاع ملی کہ عیسائی بادشاہ الفانسو ختم (AlphonsoVIII) اندلس کے اسلامی علاقوں میں فساد ڈال کر مسلمانوں کی بستیوں کو لوٹ رہا ہے۔الفانسو کے مقابلہ کے لئے مہم پر جانے کے لئے قرطبہ سے روانہ ہونے سے قبل اس نے کو بلوایا اور سر آنکھوں پر بٹھایا۔قصر شاہی میں افسران حکومت کی جو نشست گا ہیں مقرر تھیں ان میں عبدالواحد الي حفص جو خلیفہ منصور کا داماد اور ندیم خاص تھا اور جس کی کرسی تیسرے نمبر پر تھی اس سے بھی آگے بڑھ گیا اور خلیفہ منصور نے اس کو اپنے پہلو میں جگہہ دی اور دوستانہ رنگ میں بے تکلفانہ باتیں کیں۔جب شاہی دربار سے باہر قدم رنجہ ہوا تو دوست احباب اس کے منتظر تھے، سب نے اس سرافرازی پر اس کو ہدیہ تبریک پیش کیا لیکن نے کہا کہ یہ مبار کہار کا موقعہ نہیں کیونکہ امیر المومنین نے میری توقع سے بڑھ کر عزت افزائی کی ہے۔شاید اس خاطر مدارت اور تقرب کا برا انجام ہو۔یہاں اس کے اعداء بھی موجود تھے جنہوں نے شہر میں بے پر کی خبر ازادی کہ امیر المومنین نے اس کے قتل کا حکم دیا ہے۔اس لئے نے اپنے خادم سے کہا کہ وہ گھر میں جا کر کہہ دے کہ اس کے گھر پہنچنے سے قبل بنی ، کبوتر بھون کر تیار رکھیں۔اس امر میں یہ پیغام پنہاں تھا کہ اہل خانہ کو ان کی خیر و عافیت کی اطلاع ہو جائے۔خلیفہ سے کا یہ تقرب اور بے تکلفی ان کے دشمن اور سفلی حاسد ایک آنکھ نہ دیکھ پائے۔جیسا کہ ابن رشد نے خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ شاید یہ تقرب برے نتائج پیدا کرے، بالکل ایسا ہی ہوا۔حاسدوں نے خلیفہ منصور سے اس کے طلحہ و بے دین ہونے کی شکایتیں کیں تا کہ اس کی نظر میں گر جائے۔بالآخر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور نے زندگی کے آخری چار سال ذلت ورسوائی کی حالت میں گزارے۔خلیفہ نے اس کو قرطبہ کے قریب یہودیوں کی بستی لوسینا (Licena) میں نظر بند کر دیا۔کہتے ہیں کہ مصیبت سے زیادہ کوئی بڑا استاد نہیں ہوتا، اس ابتلاء نے کی جی بھر کر تربیت کی۔فی الحقیقت اس کی شخصیت کا نکھار آلام روزگار کابی مربون منت تھا۔16