ابن رشد — Page 18
(4) کے دشمنوں نے جو اس کی ہمسری کا دعویٰ رکھتے تھے منصور کی خدمت میں اس کی فلسفیانہ کتابوں کے بعض اقتباسات پیش کئے۔ایک کتاب میں کے ہاتھ کا لکھا بعض قدیم فلاسفہ کا یہ قول موجود تھا کے نہ ہر ہ سیارہ دیوتا ہے۔خلیفہ منصور نے کو دربار میں طلب کیا اور مذکورہ کتاب کو غصہ سے اس کے سامنے پھینک کر پوچھا کیا یہ تمہاری تحریر ہے؟ نے تردید کی۔اس پر خلیفہ منصور نے کہا اس تحریر کے لکھنے والے پر خدا کی لعنت ہو اور تمام حاضرین سے کہا وہ بھی لعنت بھیجیں۔اس کے بعد اس نے کو ذلت آمیز طریقے سے رخصت کیا اور حکم جاری کر دیا کہ جو لوگ فلسفیانہ بحثوں میں مشغول ہیں ان کو فوراً جلا وطن کر دیا جائے۔ایک اور فرمان یہ بھی جاری کیا گیا کہ لوگ فلسفیانہ علوم کا مطالعہ بالکل ترک کر دیں، فلسفہ کی تمام کتابیں نذر آتش کر دی جائیں۔اس فرمان شاہی پر فوراً عمل کیا گیا اور کی فسفہ اور منطق کی کتابیں قرطبہ کے ایک بازار کے چوک میں جلائی گئیں۔یہ روایت شمس الدین ذہبی کی کتاب العبر میں موجود ہے۔(5) نے جب ارسطو کی کتاب الحیوان کی شرح لکھی تو اس میں جملہ جانوروں کے ذکر میں زرافہ کے متعلق لکھا کہ میں نے اس جانور کو شاد بربر ( ملک البربر، ذو معنی ہے بر بر قوم کا بادشاہ یا وحشیوں کا بادشاہ) یعنی منصور کے باغ میں دیکھا ہے۔یہ طریقہ خطاب خلیفہ منصور کی صریح تو ہین تھی امیر المومنین کے بجائے، خلیفہ منصور کو شاہ بر بر کا خطاب ناگوار گزرا۔نے صفائی پیش کی کہ پڑھنے والے نے اس لفظ کو غلط پڑھا ہے میں نے ملك البرين لکھا ہے یعنی دو خطوں اسپین اور مراقش کا بادشاہ۔یہ توضیح قابل قبول سمجھی گئی۔مگر اس کے دشمنوں نے اس پر الحاد اور بے دینی کا جو الزام لگایا تھا اس کی بناء پر یہ معاملہ قومی اور مذہبی صورت اختیار کر گیا۔منصور نے حکم دیا کہ مع شاگردوں اور پیروکاروں کے مجمع عام میں حاضر کیا جائے۔دربار کی جگہ کے لئے جامع مسجد قرطبہ کا انتخاب کیا گیا۔خلیفہ نے اس غرض سے اشبیلیہ سے قرطبہ کا خاص سفر کیا۔قرطبہ کی جامع مسجد میں ایک عام اجتماع ہوا جس میں بڑے بڑے علماء اور فقہا شریک ہوئے اور پر فرد قرارداد جرم لگائی گئی۔سب سے پہلے قاضی ابو عبد اللہ بن مروان نے تقریر کی اور کہا کہ اکثر چیزوں میں نفع اور نقصان دونوں موجود ہوتے ہیں لیکن جب نفع کا پہلو نقصان کے پہلو پر غالب آجاتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے ورنہ ایسی چیز ترک کر دی جاتی ہے۔اس کے بعد خطیب مسجد ابو علی بن حجاج نے فتوی دیا کہ ملحد اور بے دین ہو گیا ہے۔اس کے بعد اور چند دیگر فضلاء ابو جعفر زاہی، ابوعبد الله محمد بن ابراہیم قاضی ابوالربیع الكفيف ، ابو العباس، حافظ الشاعر القرابی کو قرطبہ سے کچھ دور لوسینا کی بستی اور دیگر مقامات پر نظر بند کر دیا گیا۔کچھ بھی ہو جو سلوک ماضی میں الکندی، ابن سینا اور ابن باجہ جیسے حکما زمانہ سے حکمرانوں نے کیا تھا وہی سلوک سے روا رکھا گیا۔یہ کا فروزندیق کا خطاب اس کے مرنے کے بعد بھی بہت مہنگا پڑا کیونکہ اسلامی ممالک میں وہ گمنام رہا اور کسی نے اس کی تصنیفات عالیہ سے استفادہ نہ کیا۔18