ابن رشد

by Other Authors

Page 9 of 161

ابن رشد — Page 9

میں اس موضوع پر کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا۔فی الحال ابو مروان ابن زہر کی کتاب التبسیر اس کے لئے کافی ہے جو میری فرمائش پر اس نے قلم بند کی ہے۔" طب میں ابن زہر کی کتاب التيسير في المداواة والتدبير' کے علاوہ دو اور مشہور کتابیں کتاب الاغذيه ، اور کتاب الاقتصاد في اصلاح الانفس والاجساد ہیں۔وو د نیا کا پہلا پیرا سائٹولوجسٹ (parasitologist ) تھا۔اس نے کتاب استیسیر میں خارش (Scabies) کی نشاندہی اور پہلی بار وجوہات بیان کیں۔فن طب میں اس کا قابل ذکر اضافہ دو قسم کے اور ام (inflammation) کی نشاندہی ہے: اول الاورام التي تحدث في الاغشية الذي يقسم الصدرطولان یعنی: tumors produced in the membrane that separates the length of the chest دوم: الاورام في الاغشیتہ القلب یعنی: inflammation of the membrane of the heart اور ابو بکر ابن زہر میں نیاز مندانہ تعلقات کی تین وجوہات تھیں : ہم پیشہ ، ہم منصب اور قدیم خاندانی تعلقات۔دوستی کے رشتہ اخوت کو بہت اہمیت دیتا تھا۔کہتا تھا کہ دوست کی طرف سے جو تکلیف پہنچتی ہے وہ دشمن کی دی ہوئی تکلیف سے زیادہ سخت ہوتی ہے"۔(فصل المقال صفحہ 25) ابو بکر ابن طفیل کی پیدائش بارہویں صدی کی ابتدا میں اور وفات 1185ء میں ہوئی۔وہ بے مثل طبیب، ریاضی داں ، اور خوش گو شاعر ہونے کے ساتھ فلسفے کی تمام شاخوں پر قدرت رکھتا تھا۔اندلس کے محققین نے کثیر تعداد میں اس کے آگے زانوئے تلمذ تہ کیا تھا۔ارسطو کی کتابوں کی تشریح و تلخیص کا جو کام اندلس کے عظیم فلسفی اور سائنس دال ابن باجہ نے شروع کیا تھا وہ ادھورا رہ گیا تھا۔خلیفہ ابو یعقوب یوسف نے اس تحقیقی کام کو مکمل کرنے کی خواہش کا اظہار ابن طفیل سے کیا مگر وہ پیرانہ سالی کی وجہ سے اس کام کو انجام نہیں دے سکتا تھا اس لئے اس نے یہ مشکل علمی کام جیسے ابھرتے ہوئے نو جوان عالم کے سپرد کیا۔ابن بن طفیل نے طبعیات الہیات اور فلسفہ جیسے دقیق موضوعات پر خامہ فرسائی کی اور ایک رسالہ نٹس پر نیز دو کتابیں طلب پر لکھیں۔ابن طفیل اور کے درمیان علمی اور فلسفیانہ مسائل پر جو خط و کتابت ہوئی تھی اس کو بھی اس کی تصنیفات میں شمار کیا جاتا ہے لیکن اس کی تمام تصنیفات میں اس کی ایک کتاب جی بن یقطان کی وجہ سے اس کا نام ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔اس کتاب نے تاریخی اور فلسفیانہ طور پر بہت مقبولیت حاصل کی۔فرانسیسی ، انگریزی ، جرمنی ، اسپینی ، ڈچ اور اردو میں اس کے لاتعداد تراجم شائع ہوئے۔اس کتاب کا ایک عربی مطبوعہ نسخہ 9