ابن رشد — Page 10
کنکشن (کینیڈا) کی پبلک لائبریری میں موجود ہے جو بیروت سے شائع ہوا تھا۔اس کتاب کی تصنیف کا مقصد بہت اعلی و اشرف تھا۔مصنف کے نزدیک ایک ترقی یافتہ تمدن کے لئے صرف عقلی اور کشفی علوم کافی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی علوم کی بھی ضرورت ہے۔ابن طفیل نے اس کتاب کے ذریعے حکمت، طریقت، اور شریعت مینوں میں مطابقت پیدا کرنے کی عمدہ کوشش کی ہے۔جارج سائین کا کہنا ہے کہ ابن طفیل اور کے بغیر مغربی اسلام باباش بہ فلسفہ کا صحرا ہوتا۔اندلس کے ممتاز صوفی ، عہد ساز فقیہ اور فاضل مصنف شیخ الاکبر محی الدین ابن العربي 1240-1165ء) سے بھی کے ذاتی تعلقات تھے۔جب قرطبہ کا قاضی تھا تو اس نے ان سے ایک مرتبہ درخواست کی کہ میں آپ سے تصوف کے چند مسائل پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں لیکن ابن العربی نے بحث کرنے سے انکار کیا۔ابن یشد کے انتقال پر ابن العربی ( عمر 23 سال ) بنفس نفیس اس کے جنازہ میں شریک ہوئے اور تجہیز و تکفین کے بعد ان سال مشرق کے اسلامی ممالک کی سیاحت کے لئے روانہ ہوئے اور مراقش سے ہوتے ہوئے مصر پہنچے۔تاریخ کی کتابوں میں ابن العربی اور کے درمیان خود ابن العربی کی زبانی ایک ملاقات کا حال اس طرح بیان ہوا ہے میں نے وہ دن ابو ولید کے گھر قرطبہ میں گزارا۔اس نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ مجھ سے ملاقات کا متمنی ہے کیونکہ وہ میرے بعض الہامات من چکا تھا جو مجھ پر سکنج عزلت میں نازل ہوئے تھے اور جن کو سن کر اس نے حیرت و استعجاب کا اظہار کیا تھا۔چنانچہ اس بات کے پیش نظر میرے والد جو اس کے قریبی دوستوں میں سے تھے کوئی تجارتی معاملہ طے کرنے کے بہانے مجھے اپنے ساتھ اس کے گھر لے گئے تا کہ وہ مجھ سے متعارف ہو جائے۔اس وقت میں بغیر ڈاڑھی کے نوجوان لڑکا تھا۔جو نبی میں گھر میں داخل ہوا فلسفی اپنی جگہ سے میرا خیر مقدم کرنے کے لئے محبانہ اور برادرانہ طور پر اٹھا اور مجھے سینے سے لگا لیا۔پھر اس نے مجھ سے " ہاں" کہا اور اطمینان کا اظہار کیا کہ میں اس کا مدعا سمجھ گیا ہوں۔میں نے اس کے برعکس اس کی نیت جان کر کہ کیوں کر وہ خوش ہوا، جو ایاً کہا " نہیں "۔یہ سن کر مجھ سے ذرا ادھر ہو گیا ، اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور جو کچھ اس نے میرے بارے میں سوچا تھا اس کے متعلق شک میں مبتلا ہو گیا۔اب اس نے مجھے سے سوال کیا: تم نے الہام اور عارفانہ تجلی سے کس عقد کیا حل تلاش کیا ہے؟ کیا یہ منقل و تدبر سے حاصل ہونے والے حل سے میل کھاتا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ ہاں اور نہیں مثبت اور منفی کے درمیان مادہ کے ماوراء، روحیں پرواز کرتی ہیں، اور گرد میں اپنے جسموں سے خود کو الگ کر لیتی ہیں۔ین کر کا رنگ فق ہو گیا۔میں نے اس کو تھر تھراتے دیکھا اور یہ فقرہ اس کے لبوں پر تھا لا غالب الا الله۔یہ اس لئے تھا کیونکہ وہ میرا اشارہ سمجھ گیا تھا۔اس کے بعد اس نے میرے والد سے مجھ سے دو بار د ملنے کی 10