ابن رشد

by Other Authors

Page 2 of 161

ابن رشد — Page 2

قائنی کے عہدے پر فائز رہے۔کسی بھی مورخ نے کے خاندانی نسب کا ذکر نہیں کیا ہے۔نامورا اندلسی مورخ المقری نے نفح الطیب میں لکھا ہے کہ جو لوگ قبیلہ کنانہ کی طرف منسوب ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اور وہ زیادہ تر طلیطلہ میں آباد ہیں اور قاضی ابو الولید انہی لوگوں کی طرف منسوب ہیں۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ عربی النسل تھے۔مزید برآل ابن طفیل کی سفارش پر جب امیر السلمین عبدالمومن کے دربار میں حاضر ہوا تو ابن طفیل نے اس کے تعارف میں اس کے خاندان اور آباء و اجداد کی تعریف کی تھی۔کے فرانسیسی سوانح نگار ارنسٹ رینان نے اس کے عربی النسل ہونے کی یہ دلیل پیش کی ہے کہ عبدہ قضاء جس پر اس کے باپ اور دادا مامور تھے ایسا اہم عہدہ تھا جس پر صرف قدیم اسلامی خاندان کے لوگ ہی فائز ہوتے تھے۔(1) کا خاندان کے داد امحمد بن رشد قرطبی ( کنیت ابو ولید ( خداد اد شہرت کے مالک اور مالکیہ مذہب کے امام تھے۔ان کی پیدائش قرطبہ میں 1058ء میں ہوئی۔وہ اندلس اور مغرب کے یگانہ روزگار فقیہ اور مفتی اعظم تھے۔عوام اور خواص مشکل مسائل کے حل کے لئے ان سے رجوع کرتے تھے۔ان کی مذہبی اور اخلاقی حیثیت بھی بہت بلند تھی۔سفر و حضر میں ہمیشہ جمعہ کا روزہ پابندی سے رکھتے تھے۔انہوں نے حافظ ابو جعفر بن رزق سے فقہ کی تعلیم مکمل کی۔ابو عبد الله بن فرج، ابو مروان بن سراج، ابوالعافیہ جو ہری سے حدیث سنی اور عذری نے ان کو حدیث کی سند عطا کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ان کے ایک نامور شاگرد کا نام قاضی عیاض مالکی تھا۔ابومردان عبد الملک بن مسرہ اور ابن بشکوال بھی ان کے شاگر درشید تھے۔انہوں نے متعدد کتابیں زیب قرطاس کیس جیسے فقہ کی کتاب اليان والتفصيل لـمــا فــي المستخرجة من التوجيه والتعلیل نہیں جلدوں میں ہے جس میں صحابہ تابعین اور تبع تابعین کے فقہی اختلافات بیان کئے ہیں اور ان کا محاکمہ کیا ہے۔اجتہاد کی شان یہ ہے کہ آیات، احکام، اور احادیث کی اصولی واقفیت کے ساتھ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے اقوال پر مکمل عبور حاصل ہو، اس نسبت سے محمد بن رشد مجتہدین کی صف میں شمار ہوتے تھے۔نے اپنی کتاب بدایۃ المجتہد میں دادا کے اجتہار کی ایک عمدہ مثال پیش کرتے ہوئے لکھا ہے: قرطبہ میں ایک حادثہ میں مقتول کے بعض ورثاء بالغ اور شرعا دعوئی قصاص کی اہمیت رکھتے تھے اور بعض نا بالغ اور غیر مختار تھے۔یہ مسئلہ جب عدالت میں پیش ہوا تو تمام نانا نے فتوی دیا کہ چونکہ بعض اولیاء دم بالغ ہیں اور ان کو اخذ ریت کا قاتل کی رضامندی کے بغیر اختیار نہیں اس لئے قصاص میں تا خیر نہیں کرنی چاہئے۔لیکن 2