ابن رشد — Page 1
باب اول کے حالات زندگی محمد اسلامی اندلس کا سب سے عظیم فقیہ فلسفی ، طبیب، ماہر فلکیات، قانون داں، قاضی ، مصنف اور ارسطو کی کتابوں کا شارح تھا۔لاطینی میں اسے ایوروز ( Averoes ) اور اچینی میں ایون روز (Aven Ruiz) کہا جاتا ہے۔اسلامی دنیا میں اس کی شہرت بطور فقیہ اور یورپ میں بطور فلسفی ہے۔بارہویں صدی سے سولہویں صدی تک یورپ میں اس کا طوطی بولتا رہا۔اس کے سیاسی ، سماجی ، علمی، فلسفیانہ نظریات سے اہل یہود اور اہل نصاری نے بہت استفادہ کیا جس سے یورپ کی نشاۃ ثانیہ ممکن ہوئی۔یورپ کی علمی اور مادی ترقی در اصل اس کی ارسطو کی شرح کردہ کتابوں کی رہین منت ہے۔اس کا اصل نام محمد اتنا مشہور نہیں جتنی کہ اس کی کنیت معروف ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ منصور ابن ابی عامر کے عہد حکومت کے بعد اندلس میں یہ دستور رواج پذیر ہوگیا تھا کہ خاندان میں جس شخص کی پہلے شہرت ہوتی اسی کی جانب اس خاندان کے تمام افراد کے ناموں کا انتساب کیا جاتا۔اس بناء پر کا انتساب اپنے دادا محمد ابن رشد قرطبی کی جانب کیا جاتا ہے جس کی کنیت ابو دلید اور لقب حفید تھا۔اسلامی اسپین کے دارالخلافہ قرطبہ میں 1126ء میں شمع افروز بزم جہاں ہوا اور اپنے وجود باجود سے عالم کو روشن کیا۔دنیا کو اپنے علم سے سات دہائی تک روشن کرنے والا یہ چمکدار ستارہ 10 دسمبر 1198 کو مراقش میں مطلع فانی سے اوجھل ہوا۔اندلس میں اس کا خاندان پشت ہا پشت سے علوم وفنون کا مربی تھا۔اس کے والد ماجد احمد ایک ذی علم شخص تھے۔نے ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی اور اپنے والد ماجد سے قرآن مجید اور موطا امام مالک کو حفظ کیا۔اس کے بعد عربی ادب میں کمال حاصل کیا۔ممتاز عربی شعراء منبتی اور حبیب کے دیوان اس کی نوک زبان تھے۔علم فقہ اور علم حدیث کے خاندانی علم تھے۔عبد الواحد المراقشی اور الذہبی نے کے جو حالات زندگی قلم بند کئے ہیں ان میں اس کے نتھیال اور والدہ کا تذکرہ کہیں بھی نہیں ہوا ہے۔والد احمد