ابن رشد — Page 3
محمد بن رشد تنہا اس متفقہ فیصلے کے خلاف تھے۔ان کی رائے تھی کہ اس معاملے میں انتظار کرنا چاہنے یہاں تک کہ نابالغ اولیائے دم قصاص لینے کے قابل ہو جائیں ممکن ہے ان کی خواہش قصاص لینے کی نہ ہو۔یہ رائے سراسر شخصی اجتہاد پر منی تھی اور مصلحت اور شریعت دونوں کے لحاظ سے قابل قبول تھی۔تا ہم علما ناراض ہو گئے۔اس کے بعد محمد بن رشد نے ایک خاص رسالہ لکھ کر اپنی رائے ثابت کی۔ان کی ایک اور مایہ ناز تصنیف کا نام کتاب المقدمات لا وائل كتب المدونة ہے۔اس وقت یہ دونوں کتابیں عنقا ہیں۔البتہ بارہویں صدی میں قرطبہ کی جامع مسجد کے امام ابن القران نے ان کے فتاوی کا مجموعہ مرتب کیا تھا جو پیرس کی امپیرئیل لائبریری میں موجود ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ محمد بن رشد روایت پرست نہ تھے بلکہ روایت ( تقلید ) سے زیادہ ان میں درایت (عقلیت) پائی جاتی تھی۔درایت کا یہی ورثہ نے اپنے دادا سے پایا تھا۔محمد کو شاہی دربار میں تقرب حاصل تھا اور وہ امیر السلمین کو سیاسی و انتظامی معاملات میں اہم مشوروں سے نوازتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ خانہ جنگی کے دوران سرکش باغیوں نے ان کو خلیفہ کے پاس مراتش میں پیام مصالحت دے کر بھیجا اور وہ اپنے سفارتی مشن میں کامیاب ہو کر واپس لوٹے۔سیاسی زندگی میں ان کی اصابت رائے کا ایک اور واقعہ یہ ہے کہ کیسٹیل (Castile) کا عیسائی بادشاہ اسلامی علاقوں پر حملے کرتارہتا تھا۔ان علاقوں میں آباد عیسائی چونکہ اس کی مدد کرتے تھے اس لئے وہ ان حملوں میں کامیاب رہتا تھا۔محمد بن رشد نے پیش آمد ملکی حالات کا جائزہ لے کر 31 مارچ 1126ء کو مراکش کا سفر کیا اور خلیفہ کو مشورہ دیا کہ اسلامی علاقوں میں آباد عیسائیوں کو اندلس سے منتقل کر کے شمالی افریقہ میں آباد کیا جائے۔خلیفہ کو یہ سیاسی مشورہ بہت پسند آیا اور ہزاروں عیسائی طرابلس، المغرب اور بربری علاقوں میں آباد کر دئے گئے جس کے نتیجے میں اندلس میں سیاسی استحکام پیدا ہو گیا۔ان کے سیاسی اثر و رسوخ کا ایک اور واقعہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب اندلس کے نامور فلسفی ابن باجہ (لاطینی نام Avenpace ) پر الموحد حکمران خلیفہ ابراہیم ابن یوسف کے دور میں بدعت اور کفر کا التزام عائد ہوا اور اسے پابند سلاسل کیا گیا تو محمد بن رشد کی سفارش سے ہی اسے قید سے رہائی ملی تھی۔محمد بن رشد قرطبہ کی جامع مسجد کے امام اور بہت کم خن، با حیا اور پاکباز تھے۔1121ء میں قرطبہ کے قاضی مقرر ہوئے مگر شہر میں ایک شورش برپا ہونے پر 1125ء میں اس عہدے سے خود ہی سبکدوش ہو گئے۔انہوں نے 1126ء میں داعی اجل کو لبیک کہا اور مقبرہ عباس میں آسودہ خاک ہوئے۔ان کے بیٹے ابوالقاسم (احمد ابن رشد ) نے نماز جنازہ پڑھائی اور سیکڑوں افراد نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ان کے عظیم المرتبت ہونے کی پیدائش ان کی وفات سے ایک ماہ پیشتر ہوئی تھی۔3