ابن رشد — Page 129
باب ہفتم : عصر حاضر میں جیسا کہ بیان کیا گیا کی شہرت کا پرچم یورپ پر تیرہویں صدی سے لے کر سولہویں صدی تک لہراتا رہا۔اس کے بعد نشاہ ثانیہ کا دور دورہ شروع ہوا اور خود وہاں اس بلند پایہ کے عالم پیدا ہوئے جنہوں نے بنجر یورپی دماغوں کو سیراب کرنا شروع کیا۔انیسویں صدی میں ایک بار پھر یورپ میں کی شخصیت سے دلچسپی پیدا ہوئی اور انیسویں صدی کو ایج آف ایسٹلائٹینمنٹ (Age of Enlightenment) کہا جانے لگا۔بعض لوگوں کا یہ دعویٰ تھا کہ کے عالمانہ اور فلسفیانہ نظریات کے طفیل اس تحریک کا آغاز ہوا۔اس احیائے ثانی میں جن عالموں نے نمایاں کردار ادا کیا ان کی تفصیل درج ذیل ہے: ٹامس وان ارپ (Thomas van Erpe) یورپ کے جس عالم نے سب سے پہلے یہ کہا کہ کی کتابوں کا مطالعہ اصل عربی زبان میں کیا جانا ضروری ہے، وہ ہالینڈ کا عالم نامس وان ارپ (1584-1624ء) تھا۔اس نے خود یورپ کی کسی بھی زبان میں سب سے پہلے عربی گرامر تصنیف کی۔اس نے فلسفہ کے مطالب علموں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: خوب یا درکھو کہ ارسطوئے ثانی ( ) کا مطالعہ اس کی اپنی زبان میں بہت بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ایم۔ہے۔مولر (Marcus J۔Muller) جرمن عالم مارکس ہے۔مولر 1809-1874ء) پہلا شخص ہے جس نے در حقیقت کا نام صدیوں بعد لوگوں کے ذہنوں میں تازہ کیا۔اس نے تین کتابوں فصل المقال، ضمیمہ اور کشف الادلہ کا ترجمہ ماڈرن یورپی زبان میں کیا۔اس نے یہ ترجمہ اسکور یال میں محفوظ ایک پرانے مخطوطہ کو پیش نظر رکھ کر کیا تھا۔1935ء تک ان تین کتابوں کے تمام ایڈمیشن بشمول ان کے جو عرب دنیا میں شائع ہوئے ، ایم۔جے۔مولر کے ایڈیشن پر مبنی تھے۔129