ابن رشد — Page 130
ارنسٹ رینان (Ernst Renan) یورپ میں سب سے پہلے جس شخص نے کی نہایت عمدہ مستند اور جامع سوانح حیات لکھی وہ فرانس کا مشہور فلسفی اور تاریخ داں ارنسٹ ریتان (1823-1892 ,Ernst Renan) تھا۔جوانی کی عمر میں وہ پادری بننا چاہتا تھا اس لئے ساربون (Sorbonne) کی تمیزی (Seminary ) میں اس نے تعلیم حاصل کی۔1849ء میں اس کو ایک سائنسی مشن پر اٹلی بھیجا گیا۔اگلے سال اس کا تقرر پیرس کی نیشنل لائبریری میں لا ئبریرین کے بطور ہوا۔کی زندگی پر 1852ء میں اس نے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا جس کا عنوان تھا 'Averroes et l'Averroism" - 1860ء 1ء میں اس کو مشرق کے اسلامی ممالک میں خاص مشن پر بھیجا گیا ، اس طرح اس کو مشرقی زبانوں اور مذاہب کے تقابلی مطالعے کا موقعہ ملا۔1862ء میں اس کا تقرر عبرانی زبان کے پروفیسر کی حیثیت سے پیرس میں ہوا۔اس نے کئی کتابیں لکھیں جن میں ایک اہم کتاب ہسٹری آف کر کمیٹی (History of Christianity) ہے۔رینان کی مصنفہ کی سوانح عمری کی اشاعت کے بعد عربوں کو بھولا ہوا یاد آیا۔چنانچہ اس کے بعد کی سوانح عمریاں عربی میں منصہ شہود پر آنا شروع ہوئیں اور اب تک درجنوں کتا میں شائع ہو چکی ہیں۔عہد حاضر میں شائع ہونے والی اور کی یاد کو زندہ رکھنے والی ان جدید کتابوں کی فہرست اس باب کے آخر میں دی جارہی ہے۔ان کتابوں کے مطالعے سے اس بات کا اعادہ ہوتا ہے کہ انسان تو مر جاتا ہے مگر نظریات کبھی نہیں مرتے۔کی کتابیں قرطبہ میں جلائی گئیں مگر ان کے نظریات ان کتابوں کے جلنے سے راکھ نہیں ہوئے۔ابن رشد اب بھی دلوں اور دماغوں پر حکومت کر رہا ہے۔جب ایک دفعہ کوئی نظریہ جڑ پکڑلے تو پھر اس کے درخت بننے میں کوئی رکاوٹ کام نہیں آتی۔رینان نے کے فلسفے کا سارا علم لاطینی اور عبرانی کتابوں کے ترجموں سے حاصل کیا تھا۔اس نے کی سوانح عمری کے لئے ابن الا بار، الا انصاری، ابن ابی اصیحہ الذہبی کی لکھی ہوئی سوانح عمریوں کو پیش نظر رکھ کر ان کا تنقیدی جائزہ پیش کیا۔چنانچہ ارنسٹ رینان نے جس طریقہ سے کی تصویر پیش کی وہی اسلامی دنیا میں قابل قبول کبھی گئی۔اس تصویر میں اب تک کوئی اور عالم رنگ نہیں بھر سکا۔مثلا رینان نے کہا کہ اسلامی دنیا میں انحطاط کی وفات (1198ء) کے بعد شروع ہوا۔یہ انحطاط انیسویں صدی میں اسلامی نشاة ثانیہ (Renaissance) کی سحر طلوع ہونے تک قائم رہا۔یہ نشاۃ ثانیہ یورپی نظریات کے اسلامی دنیا میں فروغ سے شروع ہوئی۔بقول رینان کی وفات کے بعد مسلمانوں میں اگلے چھ سو سال کے لئے 130