ابن رشد

by Other Authors

Page 128 of 161

ابن رشد — Page 128

سیاسی نظریات بہت زیادہ تھے۔مصنف نے کہا کہ عقل اور مذہب کو فلسفیانہ طور پر الگ الگ ہونا چاہئے نیز چرچ اور اسٹیٹ کو سیاسی سطح پر الگ الگ ہونا چاہئے۔یہ نظریہ کی تعلیمات سے اخذ کیا گیا تھا۔بعد میں یہ نظریہ یورپ کے اکثر ممالک میں ان کے آئین کا حصہ بن گیا اور چرچ اور اسٹیٹ کو الگ الگ کر دیا گیا۔یہ کی علمی فضیلت کا مجھے بولتا ثبوت ہے۔اس زبر دست تصور (Concept) سے یورپ میں عقلیت پسندی اور انسان دوستی (Rationalism & Humanism) کی سحر نمودار ہوئی اور اس کی اشاعت سب سے پہلے چودہویں صدی میں بر پا ہونے والی اطالوی نشاۃ ثانیہ میں کی گئی اور یہ بالآخر رینے ڈیکارٹ (Rene Decartes) کی ریاضیاتی عقلیت (Mathematical Rationalism) پر منتج ہوئی جسے اب ماڈرن فلاسفی کا بادا آدم تسلیم کیا جاتا ہے۔یہاں ضمناً یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ اس فکر سے سیکیولر ازم کا آغاز ہوا، اور یورپ کی سیاسی فکر میں ایک نئے سنہری دور کی شروعات ہوئی۔اس سیاسی نظریے سے دانتے ایلی گھیری (1321 ء Dante Alighieri) نے بھی اتفاق کیا تھا۔اٹلی کا ممتاز شاعر دانتے ایلی گھیری فلورنس کا رہنے والا تھا۔اس نے اپنی شاہکار تصنیف ڈی مونا رکیا (De Monarchia) میں کے روشن خیال اور نظریہ تعقل ( Theory of Intellect) کو بنیاد بنا کر ایک نئی سیکولر تھیوری آف اسٹیٹ پیش کی۔اس تھیوری کا مقصد پوپ کے اس دعوئی کو چیلنج کرنا تھا کہ ہر بادشاہ مسیح کے ارضی نائب (پوپ) سے حکومت کے اختیارات حاصل کرتا ہے بجائے خدا کے۔دانتے نے کے نظریے سے اتفاق کیا کہ انسان کا جو ہر (essence ) اس بات میں ہے کہ وہ موجودات کا فہم عقل سے حاصل کرتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو کسی شخص کو ادنی اور اعلیٰ انسانوں میں ممیز کرتی ہے۔تمام انسانوں میں عقل واحدہ unity of intellect) پر یقین رکھتا تھا جس میں تمام انسانیت شریک ہے۔اس زبر دست نظریے سے دانتے نے یہ منطقی نتیجہ نکالا کہ تمام انسانیت سیاسی طور پر ایک قوم ہے۔اس نے مزید کہا کہ پوری انسانیت ایک متحدہ کمیونٹی ہے جو ارفع مقاصد کے حصول میں کوشاں ہے یعنی آفاقی امن اور ارضی مسرت و آرام۔اس کے علاوہ چودہویں صدی میں رشدی تحریک کے جو نامور حامی اٹلی میں گزرے ان کے نام یہ ہیں: پال آف دیفیس (Paul of Venice) ، پال آف پر گولا (Paul of Pargola) ، نکولس آف فولینو ( Nicholas of Foligno)۔پندرہویں صدی میں مائیکل سادانو رولا ( Michael Savonarola)اور پومپا تازی (1525 Pompanazzi) نے رشدی تحریک کا علم بلند کئے رکھا۔سترہویں صدی میں اس تحریک کے بڑے علمبر دار درج ذیل فضلا تھے: نکولیٹی ( Nicoletti) ، دیر نیاس (Vernias)، نے فس (Niphus) اور ذی مارا (Zimara )۔ان لوگوں نے ارسطو اور کی کتابوں پر خود اپنی زبانوں میں شر میں لکھیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان سب فضلا کے نزدیک ار مطلو کا سب سے مسلمہ شارح تھا۔128