ابن رشد

by Other Authors

Page 123 of 161

ابن رشد — Page 123

حقیقت عیاں ہوئی اور انہوں نے افلاطون کی کتابوں کا مطالعہ ترک کر دیا۔کے افکار اپنے دور سے بہت آگے تھے جن کو لوگ ان کی تحریف (sophistication) کی مجہ سے سمجھ نہیں سکتے تھے جس کی واضح مثال نظریہ ارتقا ہے: His ideas were far too advanced for the world of his time۔Thanks to Averroes the seeds of Renaissance were sown in Europe۔کے نظریات کے یورپ پر اثر کی ایک مثال یہ ہے کہ تیرہویں صدی میں لوگوں کا عقیدہ تھا کہ روح مادی اوصاف سے بری نہیں ہے اور مرنے کے بعد یہ قبر کے گرد و پیش منڈلاتی رہتی ہے۔اور یہ کہ روح جہنم میں جسمانی عذاب میں مبتلا ہو گی۔لیکن کے فلسفہ کی بدولت یہ عقیدہ بدل گیا اور لوگ ماننے لگے کہ روح مادہ سے بالکل الگ جو ہر ہے، اس پر جسمانی عتاب نہیں بلکہ روحانی عذاب ہوگا۔کے فلسفہ کی بدولت یوروپ میں ماہیت روح کے متعلق عامیانہ عقیدوں کے بجائے روح کی اعلیٰ حقیقت کا تخیل پیدا ہوا۔ڈیکارٹ (Descartes) روح کو جسم سے الگ ایک جو ہر ماننے کے عقیدہ کا بانی خیال کیا جاتا ہے حالانکہ اس نے یہ نظریہ سے سیکھا تھا۔یورپ میں کیتھولک چرچ نے کو لحد و بے دین تین باتوں کی وجہ سے قرار دیا تھا: عالم کو قدیم تسلیم کرنا عالم کے حادث ہونے سے انکار، اور تمام ارواح کا اتحاد۔یہ الزامات غلط تھے کیونکہ عیسائی یا دریوں کو اس کے نظریات سمجھنے میں غلط نہی ہوئی تھی۔نیز اس کی کتابوں کے تراجم میں سقم تھا۔اس نے کیا کہا اور ترجمہ کرنے والے نے کیا مطلب لیا۔یہی چیز شدید غلط انہی کا باعث ہوئی۔رینان ہماری رائے سے اتفاق کرتا ہے۔ملاحظہ فرمائیں اس کی رائے : رشدی تحریک ما سواغلط فہمیوں کے سلسلہ کے کچھ بھی نہیں ہے"۔"The history of Averroeism is nothing but a series of misunderstandings۔" عالم قدیم ہے، اس مسئلہ پر ایک لمحہ کے لئے کی رائے پر غور فرمائیں: " عالم قدیم ہے، یعنی اپنے خالق کے ساتھ اس کو معیت زمانی حاصل ہے اور اگر فرض کرد که صانع عالم اپنی مصنوعات پر یہ انتہار زمانہ مقدم ہو بھی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ تقدم و تاخر زمانی تو خود زمانیات میں سے ہیں۔پس یہ تقدم یا زمانہ میں ہو گا یا زمانہ میں نہ ہوگا۔اگر زمانے میں تقدم نہیں ہے تو اس سے لازم آ گیا کہ صانع عالم کو اپنی مصنوعات پر تقدم زمانی حاصل نہیں ہے اور اگر اس کو تقدم زمانی حاصل ہے تو زمانے کو غیر مخلوق ماننا پڑے گا۔غرض اگر ہم یہ مان لیں کہ صانع عالم کوبھی صانع غیر طبعی کی طرح اپنی معلومات پر تقدم زمانی حاصل ہے تو بعض شکوک پیدا ہوں گے جن کا جواب ناممکن ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مادہ اور صورت دونوں غیر مخلوق اور ازلی ہیں۔یعنی خالق عالم ان سے مقدم ہے لیکن زملیا دونوں خالق عالم کے 123