ابن رشد — Page 122
بیان کرنے کی کوشش کی مگر بجائے سلجھانے کے انہوں نے ارسطو کے خیالات کو مزید گنجلک بنا دیا۔نے یہ کام کیا کہ اس نے ارسطو کو دوبارہ دریافت کیا، اس کے خیالات کو عمر و رنگ میں بیان کیا ، یہی چیز یورپ والوں نے کی کتابوں کے تراجم سے حاصل کی۔چنانچہ پیرس یونیورسٹی، پیڈ وایو نیورسٹی (اٹلی) میں کی کتابیں نصاب میں شامل تھیں اور اس کے فلسفیانہ خیالات کا مطالعہ خاص طور پر کیا جاتا تھا۔کے خیالات اور نظریات سے ہی یورپ میں کرسچین اسکولیس ٹیزم (Scholasticism) کا آغاز ہوا۔یورپ کے علما اور حکما کے لئے کی کتابوں میں حقیقی معنی میں حکمت کے خزانے پوشیدہ تھے۔ان کتابوں کے مطالعے سے وہ نئے نئے تصورات سے متعارف ہوئے جنہوں نے یورپ کے علمی حلقوں میں تہلکہ مچادیا۔تیر ھویں صدی سے لے کر سولہویں صدی تک یورپ کے حکما کے درمیان کے خیالات گرما گرم بحث کا موضوع بنے رہے، یہاں تک کہ چرچ بھی اپنے اعتقادات بدلنے پر مجبور ہوا۔1230 ء کے بعد جب کی کتابیں یورپ میں مقبول عام ہونے لگیں تو لوگوں نے ان کا کھلے ہاتھوں استقبال کیا۔مگر چرچ کو یہ اچھانہ لگا اور پوپ گریگوری نم (Pope Gregory IX) نے ایک کمیشن بٹھایا تا کہ اس بات کا فیصلہ کیا جائے کہ کون سی کتابوں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔پیرس میں میگر آف برابانٹ (Brabant) اور بوتھیس آف ڈاسیا(Botheius of Dacia ) پر کے شاگرد ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔اٹلی میں دانت پر کا پیرو ہونے کا الزام لگا کر اس کی وفات کے بعد اس کی کتاب ڈی مونار کیا (de Monarchia) کو پوپ جان پائیں (Pope John XXII) کے حکم پر نذرآتش کیا گیا۔یادر ہے کہ دانتے نے کو شارح اعظم (che'l gran comento fco) کے خطاب سے نوازا تھا۔کی شرحوں نے یہودیوں اور عیسائیوں دونوں اقوام پر زبر دست اثر چھوڑا۔اس کا نام بطور اتھارٹی لیا جاتا تھا اور اس کی رائے سند کبھی جاتی تھی۔اہل یہود میں موسیٰ ابن میمون ( 1204ء) اور عیسائیوں میں اٹلی کا ڈومنیکن راہب، سینٹ ٹامس ایکوئے ناس (1274ء) اور البرٹ دی گریٹ (1280ء ) سے بہت متاثر تھے۔كشف عن المناهيج میں نے خدا کی بستی پر اظہار خیال کیا اور اس کے ثبوت پیش کئے۔اگر چہ اس کتاب کالاطینی میں ترجمہ نہیں ہوا تھا مگر اس ایکوئے ناس کی مایہ ناز تخلیق ساتھیولوجی کا (Summa Theologica) میں جن مسائل پر گفتگو کی گئی وہ ارسطو کے ایسے ملتے جلتے خیالات پر منحصر تھے جو نے پیش کئے تھے۔غرضیکہ عیسائی فلسفہ اور د مینیات پر کے یونانی اور اسلامی نظریات کا اثر گہرا تھا۔بقول سر ٹامس آرنلڈ مغرب میں عیسائیت کی اہم ترین کتاب ایکوئے ناس کی ساتھیولوجی کا میں اسلامی نظریات کی بھر مار اس اعتراض کا صریح توز ہے کہ مسلم مفکرین میں حقیقی انکار کی کمی تھی۔یورپ میں جب ان شرحوں کی تشہیر ہوئی اور لوگوں نے ان کا مطالعہ کیا تو ان پر ارسطو کی بے پایاں حکمت کی 122