ابن رشد — Page 124
: ہم عصر ہیں۔" ما بعد الطبعيته مقاله ثالثه ) عہد وسطی کے کیتھولک فلسفہ کا واحد مقصد کے نظریات کا ابطال تھا۔اس کے نظریات کا اثر قرون وسطی اور نشاۃ ثانیہ کے بہت سے مفکرین میں دیکھا جا سکتا ہے جیسے جرمنی کے کارڈینل نمولی آف کو سا ( Nicholas of Cusa) کو پرٹیکس، جیرارڈ و برونو۔یادر ہے کہ برونو پہلا سائنس داں تھا جس نے متعدد تہلکہ خیز نظریات سے دنیا کو متعارف کرایا تھا جیسے : نہ صرف زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے، بلکہ سورج بھی حرکت کرتا ہے ، یہ کائنات لا محدود ہے ، ہمارے سیارے کا نظام کائنات مرکز نہیں ہے ، نظام شمسی سے دور ستارے بذات خود ایسے ہم پلہ نظاموں کے مرکز ہیں۔یورپ پر کے نظریات کے اثر کی ایک اور مثال یہ ہے کہ جدید سائنس جس کے بانی بیکن (Bacon ) ڈیکارٹ (Descartes) گیلیلیو (Galileo) اور نیوٹن (Newton) تھے۔ان کے مطابق عالم کا ئنات مادہ (Matter) اور قوت (Force) کی رزم گاہ ہے اور یہ دونوں ازلی ہیں۔قوت کبھی فنا نہیں ہوتی بلکہ صورتیں بدل لیتی ہے چنانچہ برق اور حرارت اس کی متعدد اشکال ہیں۔یہ فلسفہ بھی کے فلسفہ کی آواز بازگشت ہے جو کائنات کے ازلی و ابدی ہونے پر اصرار کرتا تھا بلکہ اس کو ایک عقل عام کا مظہر بتلاتا تھا اور اسی قوت سے عالم کی ابتدا ہوئی۔علم کیا ہے؟ کے نزدیک علم دو حصوں پر مشتمل ہے: خدائی علم اور انسانی علم۔خدا کے علم کا طریقہ یہ ہے کہ چونکہ خدا کو اپنی ذات کا علم ہے اس لئے جزئیات کا علم اس کا منطقی نتیجہ ہے۔ارسطو نے خدا کے علم کو اس کی ذات کے علم میں بلا شرکت غیر قرار دیا تھا۔نے اس نظریے کی سب سے عمد و تعبیر کی ، وہ یہ کہ خدا چونکہ جانتا ہے کہ وہ کائنات کا مسبب الاسباب ہے اس لئے جو نتائج اس کی ذات سے نکلتے ہیں وہ اسباب کہلاتے ہیں۔قرون وسطی کے علمی وتعلیمی حلقوں میں یہ تشریح ہر ایک نے تسلیم کی۔ٹامس ایکوئے ناس نے اس تعبیر سے اتفاق کیا اور کہا کہ ارسطو کی بات ٹھیک ہے کہ خدا چونکہ اپنے بارے میں مکمل علم رکھتا ہے اس لئے وہ تمام اشیاء کا علم رکھتا ہے۔(22 Averroes, Majid Fakhri, Oneworld۔Oxford, 2001, page) یورپ میں کے فلسفے پر تین دور گذرے (1) پہلے دور میں کتابوں کے محض ترجمے کئے گئے، (2) ترجموں کی اشاعت کے بعد دوسرے دور میں کے مقلد پیدا ہوئے جنہوں نے اس کی کتابوں کے حاشیے اور تفسیر میں لکھیں۔چنانچہ پیڈ وا (اٹلی) کے پروفیسروں کا یہی حال تھا (3) اور بعض واقعی اس کے جامد مقلدر ہے۔کے فلسفے کا سب سے زیادہ اثر فرانسکن (Franciscan) فرقے پر نظر آتا ہے جس کا صدر مقام 124