ابن رشد

by Other Authors

Page 117 of 161

ابن رشد — Page 117

کی تعلیم سے تعلق ختم کر لیا اور وہ اجتہاد کا دروازہ بند کر کے تقلید کرنے لگے۔اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے عالم اسلام میں ترقی رک گئی اور لوگوں نے اپنی سوچ پر پہرے بٹھا لئے۔مسلمانوں کی حالت نا گفتہ بہ ہوگئی۔آج عالم اسلام کی حالت دگرگوں ہے۔اور سات سو سال بعد بھی مادی، سماجی، سائنسی، روحانی اور علمی ترقی نام کو نہیں ہے۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ مسلمانوں کے عروج کی تاریخ کا آغاز ٹھیک اس وقت ہوا جب ان میں علم و حکمت کی طلب و جستجو پیدا ہوئی اور وہ ان علوم کے قدر شناس ہوئے۔اسی طرح ان کے انحطاط کے آغاز کا زمانہ بھی وہ ہے جب ان میں علم و حکمت کی طلب سلب ہو گئی۔اس کے برعکس یورپ میں وہاں کے فضلا نے کو اپنا امام اور علمی پیشوا تسلیم کیا اس کے نتائج بھی سب کے سامنے ہیں۔بارہویں صدی میں کی وفات کے بعد یورپ ترقی کے راستہ پر گامزن ہونا شروع ہوا، آج یورپ اور امریکہ ہر قسم کی ترقی کے میدان میں عالم اسلام سے ایک ہزار سال آگے ہیں۔یورپ نے کو اپنابنا کر عالمی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔کاش ہم اس بات کو سمجھ سکیں اور کو اپنا ئیں، ہماری ترقی اسی میں مضمر ہے۔اور غزالی کے مابین علمی اختلاف آج سے آٹھ سو سال قبل مفکرین اسلام کے مابین تنازع کی عمدہ مثال ہے۔جہاں تک علت اور معلول (cause and effect) کے مسئلہ کا تعلق ہے غزالی کے نقطہ نظر کے مطابق تمام اعمال، حادثات طبعی واقعات یا جو کچھ بھی ہو، یہ خدا کی مداخلت کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ان کی منطق کے مطابق آگ کپڑے کو شعلہ زن کرتی ہے اس لئے نہیں کہ آگ کی یہ فطرت ہے کہ دو جلائے ، بلکہ مافوق الفطرت ہستیوں جیسے فرشتوں کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔کے نزدیک یہ حماقت کی انتہا ہے کہ جب بھی آگ لگتی ہے ان گنت فرشتے آسمان سے نازل ہو کر ایسا کرتے ہیں۔علل طبعی سے عمل طبعی جنم لیتی ہے۔ہر کوئی آئے روز کے تجربہ سے جانتا ہے کہ جب کپاس کو آگ کے قریب لے جایا جائے گا تو یہ شعلہ زن ہو جائے گی، کیونکہ کسی نے آج تک اس کے برعکس ہوتے نہیں دیکھا۔تھافة التهافة میں اس نے کہا کہ عمل سے انکار علم سے انکار ہے اور علم سے انکار کا مطلب ہے کہ کسی بھی چیز کا علم اس دنیا میں حاصل نہیں کیا جا سکتا۔(51) نہ چھوڑا۔بقول جارج سارٹن تھافة التهافة نے مسلمانوں میں بہت مقبولیت حاصل کی لیکن اس نے ان پر کوئی اثر عقل ایسی شے ہے کہ کوئی اور شے حقیقت میں اس کے مثل نہیں۔اس لئے عقل کو آفتاب کی مثال کہا جا سکتا ہے کیونکہ عقل اور سورج میں ایک مناسبت ہے۔نور آفتاب سے محسوسات کا انکشاف ہوتا ہے اور نور عقل سے معقولات کیا۔117