ابن رشد — Page 118
اور ابن سینا شیخ الرئیس (بادشاہ علم و حکمت) ابوعلی ابن سینانہ صرف بین الاقوامی طبیب بلکہ عظیم فلسفی بھی تھا۔دانش نامہ علائی میں اس نے منطق ، حکمت خداوندی علم فلکیات، موسیقی اور ریاضی جیسے دقیق موضوعات پر خامہ فرسائی کی۔فلسفہ میں اس کی دوسری معرکۃ الاراء تصنیف کتاب الشفاء ہے۔ابن سینا کو طب، فلسفہ اور دوسرے علوم کی تدوین و ترتیب میں بہت شہرت حاصل ہوئی۔منطق میں اس نے نئی چیزیں ایجاد کیں لیکن فلسفہ میں وہ ارسطو کا مقلد تھا۔جس چیز نے اس کو ان علوم میں افضل مقام عطا کیا وہ یہ تھا کہ اس نے فلسفہ و منطق کو منظم و مرتب کیا اور مبتدی منتہی اور متوسط ہر طبقہ کے لئے کتا میں لکھیں۔اس لئے اس کی کتا ہیں یو نیورسٹیوں کے نصاب تعلیم کا حصہ بن گئیں۔اس کی ایک اور امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے فلسفہ اور اسلامی عقائد میں تطبیق پیدا کی۔ہاں الہیات میں اس نے ارسطو کے فلسفہ کا ڈھانچہ بالکل بدل دیا، اور متکلمین کے ایسے اقوال شامل کئے جن کا ارسطو یا حکماے یونان سے کوئی تعلق نہ تھا۔بقول اس نے اپنے کئی نظریات ارسطو کے نام سے منسوب کر دئے۔الہیات (تھیالوجی) کا ایک مسئلہ یہ ہے: الواحد لا يصد رعنه الواحد یعنی ایک چیز سے صرف ایک چیز ہی پیدا ہو سکتی ہے۔تاہم یہ مسئلہ ابن سینا کی ایجاد ہے۔لکھتا ہے: " یہ غلط ہے کہ تم اس قول کو قدماء کی کتابوں میں دیکھو، ابن سینا وغیرہ کی کتابوں میں نہ دیکھو، جنہوں نے علم انہی میں (یونانیوں) کے مذہب کو بالکل بدل کے رکھ دیا۔(تهافته النهافة صلح 49) مسئله اثبات فاعل کے متعلق کہتا ہے۔اگر چہ ابو نصر فارابی اور ابن سینا کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس مسئلہ میں کہ ہر فعل کے لئے ایک فائل کا ہونا ضروری ہے، یہی مسلک اختیار کیا ہے لیکن یہ قدماء کا مسلک نہیں بلکہ ان دونوں نے اس میں ہمارے ہم مذہب متکلمین کی تقلید کی ہے۔( تهافته النهافة صفحہ 17 ) نے کتنی مسائل کے متعلق انکشاف کیا کہ وہ ابن سینا کی ایجاد ہیں۔ایک مسئلہ کے متعلق لکھتا ہے: سخت تعجب ہے کہ ابونصر اور ابن سینا سے یہ بات کیونکر پوشیدہ رہی۔کیونکہ سب سے پہلے ان دونوں نے یہ بات کہی اور دوسرے لوگوں نے ان کی تقلید کی۔اور اس قول کو فلاسفہ (یونان) کی جانب منسوب کر دیا" (صفحہ 65) پھر ایک اور جگہ لکھتا ہے : " یہ تمام اقوال ابن سینا کے ہیں، اور جس نے اس جیسی بات کہی تو وہ اقوال غلط ہیں اور فلسفہ کے اصول کے مطابق نہیں ہیں۔" (صفحہ 66) ایک اور انکشاف یہ کیا کہ " یہ بات کہ ہر جسم ہیوٹی اور صورت سے مرکب ہے، تو اجرام کاریہ میں یہ فلاسفہ کا مذ ہب نہیں ، یہ بات صرف ابن سینا نے کہی ہے۔" ( نیافته التهافت صفحہ 71) 118