ابن رشد

by Other Authors

Page 116 of 161

ابن رشد — Page 116

میں، اس بات کا فلا سفہ انکار کرتے ہیں۔روز محشر دوبارہ زندہ ہونے والے جسم میں روح شعوری اور روحانی راحتوں سے محفوظ ہو سکے گی، بلکہ بعض جسمانی لذتوں سے بھی جس کا فلاسفہ انکار کرتے ہیں۔قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے: فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة اعين جزاء بما كانو يعملون (32:17) کسی شخص کو خبر نہیں جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ایسے لوگوں کے لئے خزانہ غیب میں موجود ہے، یہ ان کے اعمال کا صلہ ہے۔(تهافت الفلاسفة صفحه 355 انگریزی ترجمہ ) امام غزالی کی شہرہ آفاق تصنیف تهافت الفلاسفة کے بارے میں کا کہنا تھا کہ : " غزالی نے تهافت الفلاسفہ میں تین مسائل میں فلاسفہ کی تکفیر اس بناء پر کی کہ انہوں نے خرق اجتماع کیا۔یہ کتاب مجموعه اباطیل و شبھات ہے۔(کشف الادلہ صفحہ 72 )۔کے نزدیک اس کتاب کی کوئی وقعت نہ تھی کیونکہ وہ اس کے دلائل کو برہان سے کم درجہ کے سمجھتے تھے۔یعنی ان کے دلائل محض لغو اور مہمل تھے۔ان کے نزدیک امام صاحب فلسفہ میں کچے تھے کیونکہ الفارابی اور ابن سینا کے فلسفہ کے علاوہ وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔دراصل غزالی قارئین کو حیرت میں ڈال کر اپنا نفوذ قائم کرنا چاہتے تھے۔عجیب بات یہ ہے کہ امام غزالی نے فلاسفہ کے نظریات کو غلط ثابت کیا لیکن یہ بتانے سے اعراض کیا کہ ان کی اپنی رائے ان مسائل کے بارے میں کیا تھی؟۔کے نزدیک انہوں نے ایسا ذاتی مصلحت کی بناء پر کیا، ورنہ دل سے وہ فلاسفہ کے ہم نوا اور ہم خیال تھے۔بہر حال غزالی نے تسلیم کیا کہ ان کا مقصد صرف ان فلسفیانہ نظریات کی تردید تھا نہ کہ تحقیق۔مزید فرماتے ہیں کہ امام غزالی اپنے قول میں مخلص نہ تھے۔ان میں اور فلاسفہ میں اختلاف محدود تھا۔انہوں نے فلاسفہ کے نظریات کی تردید اس لئے کی تا کہ اہل سنت میں اپنا اثر و رسوخ قائم کر سکیں۔ابن طفیل بھی کے اس خیال کی تائید کرتا تھا کہ غزالی نے جو کچھ فلسفے کے خلاف لکھا اس کی علت غائی عوام اور خواص کی خوشنودی حاصل کرنا تھا، جو عقلیت کے دشمن اور تقلید کے دلدادہ تھے۔یہ بھی یادر ہے کہ مذکورہ نظریات ارسطو کے تھے اور امام غزالی نے یونان کے فلاسفہ خاص طور پر ارسطو کی فضیلت کا اعتراف داشگاف الفاظ میں کیا ہے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امام صاحب ارسطو کے نظریات کے معترف تھے۔نے امام غزالی کی کتاب کا رولکھا تو علمائے اسلام نے اس پر شدید تنقید کی اور عالم اسلام میں اس کا منفی رد عمل ہوا۔چنانچہ اس کی کتاب کے رد میں ترکی کے عالم مصطفیٰ ابن یوسف البر صادی (خواجہ زادے 1487ء) نے تهافت التهافت التهافی لکھی۔عالم اسلام میں امام غزالی کی کتاب کا اثر یہ ہوا کہ لوگوں نے فلسفہ اور سائنس 116