ابن رشد

by Other Authors

Page 103 of 161

ابن رشد — Page 103

اس کی شرحوں کے تراجم لاطینی میں کئے تھے۔موسیٰ ابن میمون نے اپنی شاہکار کتاب دلالۃ الحیرین میں اس کی کتابوں سے خوشہ چینی کی۔راجر بیکن اور ٹامس ایکوئے ناس اس کے فلسفے سے بہت متاثر تھے۔ایکوئے ناس نے اپنی کتاب کوکس چنز ( Questions) میں خدا کے علم کی نوعیت پر کے نظریات کے حوالے بار بار دئے ہیں۔فرانسسکن (Franciscan) فرقہ کے لوگ اس کے فلسفے کا بیانگ دہل پر چار کیا کرتے تھے۔رشدی تحریک یورپ میں سولہویں صدی تک پنپتی رہی۔افسوس اس بات کا ہے کہ بعض فضلا نے اس کے نظریات میں سے اسلامی عصر کو نکال کر پیش کیا۔(10) ابن طملوس (1225ء) نے ابن حزم کے ڈیڑھ سو سال بعد اندلس میں شہرت حاصل کی۔وہ اپنے ہم عصروں کی علمی قابلیت پر آنسو بہاتا ہے کہ ان کو منطق کی اہمیت کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے۔اس کی پیدائش ویلنسیا (Valencia) میں ہوئی۔بچپن میں اس نے روایتی مضامین کی تعلیم حاصل کی۔عنفوان شباب میں وہ قرطبہ منتقل ہوا اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔اس نے اپنی تصنیف کتاب المدخل لصنعة المنطق (Art of Logic ) میں اندلس میں منطق کے مضمون کی تعلیم کی صورت حال بیان کی۔اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کس طرح اس نے منطق کی تعلیم کسی استاد کے بغیر حاصل کی کیونکہ اس کے ہم عصر دانشوروں کا طبقہ منطق کی تحصیل علم سے تغافل شعار بلکہ اس کے خلاف اور متعصبانہ رائے رکھتا تھا۔وہ کہتا ہے کہ علم عروض، علم انشا فمن تقریر علم لغت ، صرف ونحو طبعیات، جیومیٹری، ریاضی، ہیئت، موسیقی کے علوم کی تحصیل پر یہاں بہت زور دیا جاتا ہے۔ان علوم پر قدما ء بہت لکھ چکے ہیں اس لئے مزید لکھنا ہرانے کے مترادف ہوگا۔البتہ دو مضامین ایسے ضروری ہیں جن پر لکھنا مناسب ہو گا یعنی منطق اور مابعد الطبعیات۔مابعد الطبعیات کا جو تعلق مذہب سے ہے اس بناء پر اس پر قدرے لکھا گیا مگر منطق کے ساتھ بہت غفلت برتی گئی۔ابن طملوس کہتا ہے کہ اس غفلت کی وجہ یہ تھی کہ لوگ اس کو بے سود گردانتے تھے اور ڈرتے تھے کہ کہیں ان پر الحاد کا التزام نہ لگا دیا جائے۔وہ ان علما پر تعجب کا اظہار کرتا ہے جو حقائق کو زبانی یاد کر لیتے ہیں خاص طور پر مالکی مسلک کے پیروکار۔اس صورت حال کے پیش نظر اس نے منطق کا مطالعہ ضروری جانا اگر چہ اس کو ماسوا امام غزائی کی کتابوں کے اس موضوع پر کوئی کتاب میسر نہ ہوئی۔امام الغزائی کی کتابوں کو اس نے پورے ذوق و شوق سے پڑھا۔علاوہ ازیں الفارابی کی کتابیں بھی بہت مفید ثابت ہوئیں۔منطق کے علاوہ اس کے تجربے کا نچوڑ یہ ہے کہ فلسفہ انسانی عقیدہ کے لئے سود مند ہے، یہ وحی والہام سے متصادم نہیں ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ابن طملوس نے اپنے قریبی ہم عصر کی فلسفہ اور منطق کی کتابوں کا بالکل ذکر نہیں کیا اور نہ ہی دیگر اندلسی فلاسفہ کی کتابوں کا۔ممکن ہے کہ اس کی زندگی میں کی کتا میں بازار میں 103