ابن رشد

by Other Authors

Page 102 of 161

ابن رشد — Page 102

ہے اور فلسفہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو شریعت کے قوانین سے تناقض و تضاد رکھتی ہو۔شریعت کا مطالعہ تمام لوگوں کے لئے ممکن ہے اور اس کا بڑا مقصد نیک اعمال بجالاتا ہے، جبکہ فلسفہ صرف چند لوگوں کے لئے ہے جو دلائل دے سکتے ہوں اور سمجھ سکتے ہوں۔عوام الناس جن کی اکثریت سادہ لوح ہوتی ہے ان کے لئے مذہبی عقائد پر صرف ایمان لاتا ہی واجب ہے۔دنیا میں تین قسم کے انسان پائے جاتے جو تین قسم کے دلائل سے قائل ہوتے ہیں: (1) مٹھی بھر لوگ البر هانیون ) جو برہائی دلائل (Demonstrative) سمجھ سکتے ہیں، ان میں علما و فلاسفہ شامل ہیں جن کا شمار سوسائی کے طبقہ اشرافیہ (Elite Class) میں ہے۔استدلال بر ہانی سے یقینی نتائج پر پہنچا جا سکتا ہے۔(2) جمہور کی تقلیل تعداد ( الجدلیون) جو صرف جدلی دلائل (Dialectical) سمجھ سکتی ہے۔اس میں علم کلام کے ماہر (متكلمون ) ، علمائے سوء اور اہل مناظرہ شامل ہیں۔استدلال جدلیاتی سے ہم حسن نیت سے ایسے نتائج پر پہنچتے ہیں جو یقینی نہیں ہوتے۔(3) عوام الناس ( الجمهور ) جو انبیاء ، اہل سیاست اور دینی علما کے خطابی دلائل (Rhetoric) ہی سمجھ سکتے ہیں۔استدلال خطیبانہ سے ہم ایسے نتائج پر پہنچتے ہیں جو حقیقت کے قریب ہوتے ہیں۔کا کہنا تھا کہ " جن لوگوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے صرف وہی فلسفے کا مطالعہ کریں کیونکہ ایسے ہی لوگ فلسفیانہ نظریات کو سمجھ سکتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اپنی فلسفیانہ آراء جمہور، ماہرین علم کلام اور علماے دین کو نہیں بتانی چاہئیں۔جو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ فلسفے کا مطالعہ اور اس کا استعمال بدعت ہے کیونکہ اوائل اسلام میں اس کا رواج نہ تھا تو میں کہتا ہوں پھر ان کو فقہ میں قیاس (Logical Deduction) کے استعمال کو بھی بدعت قرار دینا چاہئے"۔کے نزدیک شریعت اور فلسفہ ایک ہی مرتبہ پر ہیں۔اس نے اس بات پر زور دیا کہ شریعت کی طرح فلسفہ بھی اس طبعی دنیا اور مابعد الطبعیاتی دنیا کی حقیقت کو جانے کا مصدقہ طریقہ ہے۔ایسے نظریات کی بناء پر ابن رشد جمہور کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا۔یہاں تک کہ تیرہویں صدی میں یورپ میں اہل نصاری بھی اس کے گہرے نظریات کی تہ تک نہ پہنچ سکے۔اہل نصاری کے نزدیک رشدی تحریک (Averroism) کا نصب العین یہ ثابت کرنا تھا کہ فلسفہ تو سچا ہے اور مذہب جھوٹا ہے۔اس کے باوجود نے یورپ میں ارسطو کی کتابوں کی تفاسیر کے ذریعے متکلمانہ سیسی کے فروغ میں زبردست کردار ادا کیا۔اگر چہ عالم اسلام میں اس کے پیروکار معدودے چند تھے مگر یورپ طریقہ (Scholasticism) میں بڑے بڑے جید محقق (Galaxy of Scholars) اس کے معتقد، مقلد اور ناقد تھے۔چنانچہ اس کی تلاشخیص اور شروح کے عبرانی اور لاطینی ترجمے مومز ابن طبون ( Moses 1283,Ben Tibbon)، مائیکل اسکاٹ (1232 ,Michael Scott) ہیر سن دی جرمن ( Herman the German ) ، لیوی بن جرسان (1344 Levi Ben Gerson ) جیسے اعلیٰ پایے کے محققین نے کئے۔کی وفات کے صرف 19 سال بعد مائیکل اسکاٹ نے 1217ء میں ٹولیڈ و ( طلیطلہ ) میں سب سے پہلے 102