ابن رشد — Page xii
کتاب میں اس نے فلسفہ و شریعت کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالی ہے۔اور بعض جگہ تطبیق کا انداز اختیار کیا ہے۔دوسری میں اسلامی عقائد کو عقلی دلائل کی رو سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔تیسری غزالی کی تہافتہ انتہافتہ کی تردید میں ہے۔کے فلسفہ کی یورپ میں خوب اشاعت ہوئی۔اس کی کتابوں کے عبرانی ، لاطینی اور دوسری مغربی زبانوں میں تو جسے کئے گئے۔ان کی شرحیں اور خلاصے لکھے گئے۔اور انہیں بہت توجہ اور شوق سے پڑھا گیا۔محمد ذکر با درک مسلمانوں کی علمی تاریخ کے شناور اور بڑے کثیر المطالعہ محقق ہیں۔مسلمانوں کے سائنسی کارناموں پر انہوں نے جو تحقیقی کام کیا ہے اور حصول مواد کے لئے جو جدو جہد اور کوشش صرف کی ہے، اس سے متعلقہ مضمون سے ان کے غیر معمولی شغف کا اظہار ہوتا ہے۔ان کے مطالعہ کی بہت خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے ان اہم ماخذ تک رسائی حاصل کی ہے جو عام طور پر مشرقی محقیقین کی پہنچ سے باہر ہیں۔چونکہ وہ ایک عرصہ سے کناؤ میں مقیم ہیں اس لئے بڑی آسانی سے انہیں مغربی ملکوں کے کتب خانوں میں تلاش مواد کا موقع ملا۔اور انھوں نے وہاں مسلم سائنس دانوں کے جو مخطوطات یا قدیم مطبوعات مختلف زبانوں میں محفوظ ہیں ان کے بارے میں براہ راست واقفیت ہم پہنچانے کی کوشش کی۔ان کی کتاب " مسلمانوں کے سائنسی کارنامے " جو مرکز فروغ سائنس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گذشتہ سال 2005 ء میں شائع ہوئی ، ان کی تاریخی معلومات ، وسعت مطالعہ اور ماخذ کی تلاش میں ان کی قابل تحسین کا دشوں کا آئینہ ہے۔مجھے خوشی ہے کہ مرکز فروغ سائنس کی فرمائش پر انہوں نے کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔کی شخصیت اور اس کی علمی و سائنسی خدمات پر ان کی یہ تصنیف رینان کے بعد دوسری اہم کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔امید ہے اس کے ذریعہ کے ساتھ مسلمانوں کے سائنسی کارناموں کے مطالعہ سے دلچسپی بڑھے گی اور عظمت رفتہ کی بحالی اور علمی وراثت کی حفاظت کا جذبہ فروغ پائے گا۔مرکز فروغ سائنس کے سابق ڈائرکٹر پروفیسر سید محمد ابوالباشم رضوی اور موجودہ ڈائرکٹر ڈاکٹر شاہد فاروق شکریہ کے مستحق ہیں، جن کے زیر اہتمام یہ کتاب شائع ہو رہی ہے۔ابن سینا اکاڈمی علی گڑھ : سید ظل الرحمن اکتوبر ۲۰۰۶