ابن رشد

by Other Authors

Page xi of 161

ابن رشد — Page xi

اور نمکین ہو تو اس صورت میں تمام گرم دواؤں کے مزاج معلوم نہیں ہو سکتے۔کیونکہ بعض گرم چیزیں تلخ و تیز نہیں ہوتیں۔مثلاً چڑیوں ، مرغ اور دوسرے حیوانات کے گوشت۔اس نے ان لوگوں پر سخت تنقید کی ہے جنہوں نے تلخ چیزوں کو صرف حار کہا ہے۔افیون کی مثال دیتے ہوئے اس نے لکھا ہے کہ افیون کا ذائقہ بہت تلخ ہے لیکن متفقہ طور پر وہ بار د اور مخدر ہے۔کتاب الکلیات میں جالینوس اور ابن زہر کے حوالے ملتے ہیں لیکن پوری کتاب میں ابن سینا یا مشرق سے کسی طبیب کا حوالہ نہیں پیش کیا گیا ہے۔کٹر محب وطن اندلسی تھا۔افلاطون نے یونان کو سائنس اور عقلی علوم کا سب سے بڑا گہوارہ قرار دیا تھا۔نے اندلس کو علم کا عظیم ترین مرکز کہا۔جالینوس نے سب سے اچھی آب د ہوا کا ملک یونان کو بتایا تھا۔نے آب و ہوا کی عمدگی کے لحاظ سے قرطبہ کی افضلیت ظاہر کی۔اسے ابن سینا کی بالادستی تسلیم نہیں تھی۔اس نے محض ابن سینا کی القانون کے جواب میں خود کتاب الکلیات تصنیف کی اور اپنے ہم عصر اور دوست ابن زہر سے جس کی علمیت سے دوستاثر تھا، معالجات پر لکھنے کی فرمائش کی۔چنانچہ اس نے کتاب التیسیر جیسی کتاب تصنیف کی۔ابن زہر نے انتیسیر کے مقدمے میں اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے دوست کی فرمائش پر یہ کتاب لکھی ہے۔کتاب الکلیات کے آخر میں خود نے کتاب استیسیر کی تعریف اور اس کے مطالعہ کی سفارش کی ہے۔مقصد صرف یہ تھا کہ یہ دونوں کتا میں مل کر القانون کا مقابلہ کر سکیں اور اس کے مطالعہ کی احتیاج باقی نہ رہے۔کثیر التصانیف مصنف ہے۔اس کے تحریر کردہ صفحات کی تعداد میں ہزار سے کم نہیں ہے۔طب میں مقالہ فی المزاج ، مقالہ فی نوابت اٹھی ، مقالہ فی حمیات العفن ، مقالہ فی الترياق ، شرح کتاب الاستقسات لجالینوس ، شرح کتاب المزاج الجالينوس بالخيص كتاب القوى الطبيعيه بتلخيص كتاب العلل والاعراض الجالينوس التلخيص کتاب العرف الجالینوس ، تلخیص کتاب المیات لجالینوس ،تلخیص اول کتاب الادوو یه المفرده لجالینوس، تلخیص کتاب حیلة البره الجالینوس (نصف آخر ) شرح ارجوز و ابن سینا اور کتاب الکلیات وغیرہ ہیں۔اس کی کتاب الادویہ کے مخطوطہ کو مجھے ترکی کے سفر میں کتب خانہ احمد ثالث استنبول میں دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ہندوستان میں صرف آخری دو کتابیں طبع ہوئی ہیں۔شرح ارجوزہ لکھنو سے 1241ھ / 1845ء میں چھپی ہے اور کتاب الکلیات کی عربی اشاعت (1984ء) اور اردو ترجمہ (1987 ء ) مرکزی کونسل برائے تحقیق طب یونانی، نئی دہلی کے لائق افتخار علمی کاموں میں ہے۔موخر الذکر دو کتابوں کے علاوہ کی کتاب مابعد المطبعيات ( تلخیص مقالات ارسطو) کی ایک قدیم اشاعت جو تبت صبح مصطفی قبانی دمشقی مطبع ادبیہ مصر سے طبع ہوئی ہے، ابن سینا اکاڈمی علی گڑھ میں محفوظ ہے۔فلسفہ میں اس کی تین کتابوں فصل المقال ، منابج الادلہ اور تہافتہ انتہافتہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔پہلی (iv)