ابن رشد

by Other Authors

Page 98 of 161

ابن رشد — Page 98

نے اس کو ہر پلا دیا جس کی وجہ شاید اس کے غیر مذہبی نظریات تھے۔اس نے بہت سارے علوم میں تربیت پائی تھی اس لئے اس نے جملہ مضامین پر قلم اٹھایا جیسے طب موسیقی ، ریاضی، ہیئت اور فلسفہ۔اس نے نظمیں بھی کہیں جن کو موشا کہتے تھے۔تاہم اس کی لازوال شہرت کا سبب فلسفہ ہے۔اس کے شاگردوں میں سے ابن طفیل ، اور ابن میمون نے جہانگیر شہرت حاصل کی۔اس نے منطق اور مابعد الطبیعیات پر 22 کتابیں لکھیں ، ان کتب میں سے معدودے چند دستیاب ہیں:۔شرح كتاب السماع الطبيعي كتاب اتصال العقل بالانسان كتاب النفس۔مجموعه في الفلسفة والطب والطبيعيات - فصول فى السياسة المدنيته اس نے ارسطو کی چار کتابوں کی شرحیں اور الفارابی کی منطق کی کتابوں کی تعالیق بھی لکھی ہیں۔علم سیاست پر اس کی ذی اثر کتاب کا نام تدبیر المتوحد ہے جس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یونانی اور مسلمان فلسفیوں جیسے افلاطون، ارسطو، جالینوس الفارابی، ابن سینا کے نظام فلسفہ سے پوری واقفیت رکھتا تھا۔وہ اس کتاب میں ان فلسفیوں کے نظریات کا بار بار حوالے دیتا ہے۔کتاب سے اس کے اپنے نظام فلسفہ کی جھلک بھی نظر آتی ہے جس کے مطابق خلوت گزیں انسان خوشی اور کمال کی انتہا تک پہنچ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی زندگی فطرت سے مطابقت رکھتی ہو۔گوشہ نشیں کو یہ اوج کمال دولت، اثر رسوخ عزت اور نیکیوں سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان دنیا کو ترک کر کے زاہدانہ زندگی اختیار کرتا ہے۔الفارابی کے نزدیک یہ اوج کمال انسانی معاشرہ میں رہنے (یعنی مدینہ فاضلہ ) سے حاصل ہوتا ہے جبکہ ابن باجہ کے نزدیک اس کے حصول کا ذریعہ تدبیر الانسان المتوحد ہے تا کہ وہ سب سے افضل وجود بن جائے۔کتاب کے شروع میں ابن باجہ لفظ تدبیر کے معنی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کے ایک معنی کسی خاص مقصد کی خاطر مختلف اشیاء کو ترتیب دینا ہے۔اس لئے خدا کو کائنات کا مدبر (حکمراں ) کہا جاتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ تمام اشیاء یا تو مادی ہیں یا غیر مادی۔مادی اشیاء کی لمبائی، چوڑائی اور گہرائی ہوتی ہے جبکہ غیر مادی اشیاء میں ایسے اوصاف ہوتے ہیں جیسے شرافت علم نیز دو تمام تصورات ( concepts) جو عقل سے بیان کئے جاسکتے ہیں۔پھر روحانی اجسام کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مادہ صورت کے بغیر نہیں رہ سکتا جبکہ صورت کا مادے کے بغیر وجود ہو سکتا ہے۔صورت کی بھی کئی صورتیں ہیں جیسے مادی صورت ، آفاقی صورت ، روحانی صورت اور آخری عقلی صورت ( صورة عقلیہ ) جو سب سے افضل ہے۔انسان میں سب سے اچھی صفت ( قوۃ النفس) عقل کی ہے جس کے ذریعے انسان علم اور حقیقی خوشی حاصل کرتا ہے۔جب عقل انسانی کا عقل فعال کے ساتھ اور عقل فعال کیا عقل الکلی (یعنی خدا) کے ساتھ اتصال ہوتا ہے، تب صحیح خوشی حاصل ہوتی ہے۔اس علم اور خدا کی معرفت اور شناخت کے بغیر خوشی ممکن نہیں۔گوشہ نشیں اس مقصد کو حاصل کر سکتا ہے۔(شریعت میں محقل فعال سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں )۔98