ابن رشد — Page 99
ابن باجہ کہتا تھا کہ بعد از مرگ وہی ارواح باقی رہیں گی جنہوں نے یہاں عقل والہام ہر دو سے توانائی حاصل کی ہوگی ، باقی فنا ہو جائیں گی۔حصول مسرت کا واحد راستہ یہ ہے کہ انسان علم و حکماء سے تعلق رکھے، محبت کو اوڑھنا بچھونا اور وصال خدا کو جو کمال حیات سے مقصود حیات بنالے۔(8) گوشہ نشیں انسان کے تصور کو ابو بکر ابن طفیل (1110-1185ء) نے اپنے زبر دست ناول 'حی ابن يقظان میں باکمال طریقہ بیان کیا ہے۔ابن طفیل کی پیدائش گاڈ کس ( Gaudix) میں ہوئی۔کچھ عرصہ کے لئے وہ غرناطہ میں طبیب رہا۔اس کو ہیئت ، ریاضی، شاعری اور فلسفہ پر مکمل عبور حاصل تھا۔کیا اس نے ابن باجہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا ؟ اس بارے میں مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔خوش قسمتی سے اندلس میں اس وقت حکمران وقت فلسفہ کی تعلیم وتبلیغ کو اچھا سمجھتے تھے۔ابن طفیل الموحد حکمراں ابو یعقوب یوسف (1163-1184ء) کا شاہی طبیب اور وزیر رہا۔سلطان نے ابن طفیل کو اجازت دی کہ وہ اپنے ارد گر دردشن خیال فلسفیوں کا طبقہ پیدا کرے۔چنانچہ اس دور کے عظیم محقق بشمول اس کے حلقہ تلامذہ میں نظر آتے ہیں۔اسی نے کو ارسطو کی کتابوں کی شرحیں لکھنے پر مامور کیا تھا۔اس کے قلم سے تین اہم کتابیں منصہ شہود پر آئیں، اسرار الحكمة الاشراقيه (حي بن يقظان)، رساله في النفس ، كتاب في البقع المسكونه وغير المسكونہ۔اس نے متحدو نظمیں رقم کیں۔اس کی شہرت کا مدار اس کے ناول حی ابن يقظان پر ہے جو ادب عالیہ میں شمار کیا جاتا ہے۔اس ناول میں دو بڑی چابکدستی سے انسان کے ارتقاء کے مراحل بیان کرتا ہے پیدائش سے بچپن تک، پھر جوانی اور اس کے بعد بڑھاپا۔اس کی زبان بہت سہل اور نہایت عمدہ ہے۔شاید اسی وجہ سے یہ کتاب اندلس کی عوامی کتابوں میں شمار ہوئی۔تیرھویں صدی میں روشن خیال مصری طبیب ابن النفیس (1288ء) نے اس کتاب کے موضوع کو مد نظر رکھ کے رسالہ الكاملية في سيرة النبوية لکھی۔دونوں کتابوں میں بہت ساری باتیں مشابہت رکھتی ہیں۔ابن طفیل کی کتاب کو بنیاد بنا کر یورپ کے مصنف ڈینیل نے ن ( 1731-1660ء Daniel Defoe) نے کتاب رابنسن گروسو Robinson Cruso ) زیب قرطاس کی۔ابن طفیل کے فلسفے کا ماحصل یہ ہے کہ انسان کی سب سے بڑی لذت مشاہد ہ ذات ہے جو عبادت سے حاصل ہوتی ہے۔انسانی عقل در اصل عقل کل کا ایک جلوہ ہے جو وہاں سے ٹوٹ کر انسانی بدن میں جلوہ گر ہوا۔اور فنا کے بعد پھر اپنے مرکز کی طرف لوٹ جائے گا۔الفارابی کا یہ خیال کہ نبوت کیسی ہے، غلط ہے۔تنہا عقل اور کشف حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے ، انہیں ایک دوسرے کا معاون ہونا چاہئے۔یہ درست ہے کہ بعض حقائق تک رسائی صرف کشف سے ہو سکتی ہے لیکن کشف زندگی کے تمام اسرار بے حجاب نہیں کرتا، اسے قدم قدم پر عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔99