ابن رشد

by Other Authors

Page 97 of 161

ابن رشد — Page 97

عورتیں بھی مقام نبوت پر فائز ہو سکتی ہیں۔اس کا سب سے بڑا انکشاف یہ تھا کہ فلسفہ مذہب کی قیادت میں چلے تو حقیقت کو پالیتا ہے ورنہ ناکام ہو جاتا ہے۔اس نے دہریہ فلاسفہ اور معتزلہ پر کڑی تنقید کی۔خود ظاہری عقائد کا پیرو کا ر تھا یعنی قرآنی آیات کے ظاہری الفاظ و معانی میں کسی تاویل کو گوارانہیں کرتا تھا۔(4) ابن فتوح کے ہم عصر عبد الرحمن ابن اسماعیل ابن زید کا لقب اقلیدس تھا۔وہ اوائل عمر میں ہی ہجرت کر کے مشرق کی طرف روانہ ہو گیا جہاں اس کی وفات ہوئی۔وہ ایک ممتاز ریاضی داں تھا جس کو منطق پر بھی عبور حاصل تھا۔قاضی صاعد بن احمد اندلسی (1070ء) نے اپنی کتاب طبقات الامم میں اس کا ذکر کیا ہے۔(5) ابن الکتانی نے فلسفہ پر کئی رسالے تصنیف کئے جن میں سے ایک کا نام کتاب التحقيق في نقد كتاب العلم الالهي لمحمد زکریا الطبیب ہے۔اس کے شاگر درشید کا نام ابن حزم ہے جس کے مطابق الکتانی کی کتابیں اعلیٰ درجہ کی اور نہایت مفید تھیں۔(6) ابن حزم کا ایک ممتاز ہم عصر ابن جبرائیل (1070 ء ) تھا جو بندرگاہ والے شہر ملاغہ کا باشندہ تھا۔اس نے اپنی شاہکار تصنيف ينبوع الحیات کے ذریعے نوافلاطونی فلسفه (Neo-Platonic Philosophy ) کا پرچار کیا۔اس کی کتاب کا ترجمہ لاطینی میں اسپین کے مشہور عالم اور مترجم گندی سالوی Gundisalv) نے 1150 ء میں کیا۔وہ کہتا ہے کہ انسان اور فرشتے مادہ اور ہئیت سے بنے ہیں۔ابن حزم کی طرح وہ بھی اس نظریہ کا اعادہ کرتا ہے کہ فلسفہ کے مطالعہ سے بچ کی حقیقت کو جانا جاسکتا ہے مگر یہ کام صرف فلسفی ہی کر سکتا ہے جاہل عوام الناس نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ایسے علم سے نا آشنا ہیں۔فلاسفہ کے علم اور مذہبی علما کے علم اور عام آدمی کے علم میں فرق کے نظام کو ابن باجہ، ابن طفیل ، اور ابن میمون نے بڑی صراحت سے بیان کیا ہے۔(7) بارہویں صدی میں فلسفہ کے علم کو اندلس میں چار چاند لگے۔ابو بکر محمد بن یکی ابن باجہ (1138ء) طب ، منطق اور فلسفہ میں مشاق تھا۔اس نے مذہب اور فلسفہ میں فرق کو واضح طور پر بیان کیا۔ابن طفیل کے مطابق ابن باجہ کی نظر عمیق اور اس کے خیالات بہت گہرے تھے۔اس نے الفارابی، ابن سینا اور الغزائی سے زیادہ فوقیت حاصل کی۔اس بات سے ابن خلدون بھی اتفاق کرتا تھا اور اسے اسلام کے ممتاز ترین فلاسفہ میں شمار کرتا تھا۔ابن باجہ کی پیدائش ساراگوسا ( سرقسطہ ) میں ہوئی۔انتظامی امور میں وہ اس قدر صائب الرائے تھا کہ سرقسطہ کے گورنر نے اسے اپنا وزیر بنا لیا تھا۔مگر جب آراگان کے الفانسو اول نے شہر پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا تو اس نے ذلت کی زندگی گزارنے پر جلاوطن ہونے کو ترجیح دی۔پہلے وہ ویلنسیا گیا، پھر اشبیلیہ، وہاں سے غرناطہ اور بالآخر فیض ( مراقش) میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔آزاد خیالی کی وجہ سے علما اسے کافر کہتے تھے۔اس شہر میں اس کے دشمنوں 97