ابن رشد — Page 94
(Daniel of Marley) اور گندی سالوس ( Gundisalvus) تھے۔(39) مشرق کے اسلامی فلسفیوں (جیسے الکندی الفارابی، ابن سینا) کی کتابوں اور ان کے فلسفیانہ نظام کے بارے میں اندلس کے علما خوب واقفیت رکھتے تھے۔لیکن اس بات کے تاریخی شواہد بھی موجود ہیں کہ اندلس میں فلسفہ کی تعلیم پر بعض دفعہ ممانعت بھی لگائی گئی تھی۔اسکولوں میں فلسفہ کی تعلیم نصاب میں شامل نہیں ہوئی تھی۔ہمارے پاس کوئی ایسی تاریخی شہادت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ اندلس میں فلسفے پر یونانی اور لاطینی میں لکھی جانے والی کتابوں کے تراجم کئے گئے۔مشرق کے اسلامی ممالک میں عربی میں جو ترجمے کئے گئے تھے ان پر بھی نظر ثانی کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔یہاں فلسفہ کی تعلیم کا انحصار سراسر مشرق کے مسلمان فلسفیوں کی کتابوں ہی پر رہا۔فلسفہ کی کتابوں کا مطالعہ گھروں میں کیا جاتا تھا لیکن قدامت پسند مذہبی علما کی مخالفت کے پیش نظر کھلے عام ان کتابوں پر نقد و نظر یا بحث نہیں کی جاتی تھی۔اندلس میں کھلے بندوں فلسفہ کی تعلیم و تدریس کرنا مصیبت مول لینے کے مترادف تھا۔چھوٹے چھوٹے علمی مسائل پر عوام بھڑک اٹھتے اور دنگا فساد پر آمادہ ہو جاتے تھے۔ہر بری قبیلوں کی خانہ جنگی کے زمانہ میں ان لوگوں نے کتب خانوں کو خوب لوٹا تھا۔ابن باجہ جان بچانے کی خاطر ہمیشہ بادشاہوں کی سرپرستی میں رہتا تھا۔کے دادا نے اسے قید خانے سے رہائی دلوائی تھی ورنہ شاید قتل کر دیا جاتا۔ابن واہب اشبیلی قرطبہ کا فلسفی تھا اس نے جان کے خوف سے اپنے قریبی فلسفی دوستوں کو مجالس میں فلسفیانہ مسائل پر بحث کرنے سے روک دیا تھا اور خود بھی اجتر از کرتا تھا۔اگر کسی شخص کے بارے میں علما کو معلوم ہو جاتا کہ وہ فلسفہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے یا فلسفہ کی طرف اس کا رجحان ہے تو اس کو ملحد قرار دے کر اسے زدو کوب کیا جاتا نیز اس کے یہاں موجود کتابوں کو نذر آتش کر دیا جاتا تھا۔اس کی کئی ایک واضح مثالیں ہیں جیسے ابن مسرہ (931ء) جو اندلس کا سب سے پہلا فلسفی تھا اس کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا۔اس کی کتابوں کی اشاعت اور تقسیم پر پابندی لگاؤں گئی تھی۔علما فلسفہ کے سخت خلاف تھے اس لئے ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ابن ابی منصور (1002ء) نے جو اندلس کا طاقتور حاجب اور در پردہ حکمراں تھا حکم دیا کہ خلیفہ الحلم الثانی کی شاہی لائبریری سے جس میں چار لاکھ کے قریب نایاب کتابیں تھیں منطق ، ہیئت اور علوم قدیمہ کی کتابوں کو تلف کر دیا جائے۔ابن حزم جو قرطبہ کا جامع کمالات محقق اور آزاد خیال ادیب و شاعر تھا اس کو نہ صرف شہر بدر کیا گیا بلکہ اس کی کتابوں کو خاکستر کر دیا گیا۔پھر ایک دور ایسا بھی آیا کہ کی کتابوں کو قرطبہ کے بازار کے چوک میں آگ کی نذر کیا گیا۔ایسا لگتا ہے کہ اس گھٹی ہوئی فضا کے ردعمل کے نتیجہ میں اندلس کے فلسفی فلسفیانہ علوم کے سخت دفاع کرنے 94