ابن رشد

by Other Authors

Page 95 of 161

ابن رشد — Page 95

والے بن گئے کیونکہ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ فلسفے کے ذریعے انسان سچ کی تہ تک پہنچ سکتا ہے۔بعض اندلسی فلاسفہ کے نزدیک فلسفے کی وہی اہمیت اور حقیقت تھی جو دوئی اور الہام کی ہے بلکہ کچھ نے تو اس کو وحی پر فوقیت دی ہے۔ابن حزم اور ابن طملوس منطق کے بہت بڑے علمبردار تھے۔قاضی صاعد اندلسی نے طبقات الامم میں تین محققین کا خاص طور پر ذکر کیا ہے جو علوم قدیمہ اور فلسفہ میں شغف رکھتے تھے، یعنی ابن النباش الہجائی ، ابوالفضل ابن حسدائے ، احمد ابن حفصون (المشهور فلسفی ) کی زندگی بطور فلسفی جاننے کے لئے اندلس کے فلاسفہ اور فلسفہ کے وہاں رواج پانے کا پس منظر جانتا اہم ہے۔اس لئے چیدہ چیدہ اندلسی فلسفیوں کے حالات کسی قدر تفصیل سے یہاں پیش کئے جاتے ہیں تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ اندلس فلسفہ کے میدان میں بے آب و گیاہ صحرا کے مانند نہیں تھا۔اسی اندلسی گلستان کی پیداوار تھا جس کے پھولوں کی معطر جاں خوشبو نے یورپ کو اپنے سحر میں لے رکھا تھا۔(1) محمد ابن عبد اللہ ابن مسرہ (931ء ) دسویں صدی کا عظیم فلسفی تھا۔اندلس سے اس نے مشرق کے اسلامی ممالک کا سفر کیا جہاں وہ معتزلہ خیالات اور تصوف سے بہت متاثر ہوا ، خاص طور پر عقیدہ قضا و قدر اور اس نظریے سے کہ قرآن تخلیق شدہ ہے۔جب وہ اندلس واپس آیا تو اس نے ان غیر قدامت پسند نظریات کا پر چار شروع کیا مگر وہ علما اندلس کی نظروں میں کھٹکنے لگا۔ابھی وہ عمر کی تیسویں منزل میں تھا کہ علما نے اسے محمد قرار دے دیا چنانچہ وہ قرطبہ سے فرار ہو کر شہر کے نزدیک پہاڑوں میں روپوش ہو کر زاہدانہ زندگی گزارنے لگا۔اس کے مریدوں کا ایک حلقہ اس کے گرد جمع ہو گیا جو اس کی طرح زاہد : عابد اور تارک الدنیا بن گئے۔اس نے وحدت الوجود (یعنی کائنات اور خدا ایک ہیں ) کے نظریہ کو اندلس میں فروغ دیا جس سے اسلامی نظریہ تصوف کی بنیاد اندلس میں رکھی گئی۔اس نے دو کتابیں تصنیف کیں جنہیں اس کی زندگی میں ضبط کر لیا گیا اور اس کی رحلت کے بعد کچھ عرصہ وہ زیر زمین ہی رہیں۔حج کے بہانے وہ حجاز گیا مگر عبد الرحمن الثالث کے دور خلافت میں واپس آ گیا۔اس کی وفات پر لوگوں نے اس کو ولی اللہ تسلیم کیا۔(2) گیارہویں صدی میں اندلس میں سیاسی طور پر بہت غلفشار تھا۔مگر اس کے باجود متعدد علما نے نام پیدا کیا۔سعید ابن فتوح (وفات 1029ء ) ساراگوسا ( سرقسطہ ) کا باشندہ تھا جو حمار کے نام سے بھی معروف تھا۔اس نے خلیفہ عبد الرحمن سوم اور خلیفہ الحکم الثانی کے دور حکومت میں کئی فلسفیانہ کتابیں تصنیف کیں۔ان میں ایک کا نام شجرات الحكمة (The Tree of Knowledge ) تھا جو فلسفے کے تعارف پر ہے۔حاجب ابن ابی عامر نے اس کو زنداں میں ڈال دیا ، رہائی پر وہ پسلی میں آباد ہو گیا۔مؤرخ مقری نے اپنی کتاب نفح الطيب میں اس کا ذکر کیا ہے۔95