ابن رشد

by Other Authors

Page 92 of 161

ابن رشد — Page 92

سترہویں صدی) میں پیرس، لیڈن ، روم، آکسفورڈ کی جامعات میں عربی کے پروفیسر تدریس کا کام کر رہے تھے۔عیسائی مشنریاں بھی اس معاملے میں کچھ پیچھے نہ تھیں اس لئے اسلام کے بارے میں معلومات اور کتابیں وسیع تعداد میں لکھی جانے لگیں۔1697ء میں پہلے انسائیکلو پیڈیا آف اسلام (Bibliotheque Orientale) پیرس سے شائع ہوا۔پھر سوئٹزر لینڈ کے جو ہان بانگر (1667-1620 Johann Hortinger) نے ابن ابی اصیبعہ کی کتاب طبقات الاطباء اور ابن ندیم کی کتاب الفهرست کو سامنے رکھ کر ایک کتاب شائع کی۔مستشرقین کے لئے ہسٹری آف اسلامک فلاسفی اینڈ سائنس کے موضوع پر یہ کتاب سب سے مستند ذخیرہ تھی۔انگریزی میں انسائیکلو پیڈیا آف اسلام لیڈن سے 1913ء سے 1938 ء کے دوران چار جلدوں میں شائع کی گئی تھی۔سترہویں صدی کا سب سے عظیم مستشرق بلا شبہ ایڈورڈ پوکاک (16-1604 Pocock ) تھا جس نے فلسفہ کی تعلیم ہائیڈل برگ کے پروفیسر پاسر (Pasor) سے حاصل کی تھی۔پوکاک جب شام میں عیسائی مشنری کے طور پر متعین تھا تو اس نے عربی کتب کے نادر مخطوطات آکسفورڈ یونیورسٹی کے لئے اکھٹے کئے۔اس کا ایک اور قابل ستائش کارنامہ یہ ہے کہ اس نے یورپ میں اسلامی فلسفہ کے فروغ کے لئے دو کتابوں کے ترجمے کئے۔پہلی کتاب مختصر في الدول کالاطینی ترجمہ (Specimen Historiae Arabum) آکسفور؛ سے1663ء میں منظر عام پر آیا۔اس کتاب کو اسلامی فلسفہ کی ہسٹاریو گرانی کی بنیادی اینٹ قرار دیا گیا اور اس کا اثر انیسویں صدی تک شائع ہونے والی کتابوں میں محسوس کیا جاتا رہا۔پوکاک نے اس ترجمہ کے لئے ابن خلکان کی کتاب وفیات الاعیان شہرستانی کی کتاب الملل والنحل ، ابن الاثیر کی الكامل فى التاريخ ، این حکمون القدوائی ( وفات 1062ء) کی کتاب الانبیاء والخلفاء موی ابن میمون (1204ء) کی مورے نیوکم (Moreh Nebukim)، امام غزالی کی احیاء علوم الدین اور عقیدہ سے پورا پورا استفادہ کیا تھا۔دوسری کتاب جس کا اس نے انگریزی میں ترجمہ کیا وہ ابن طفیل کا مشہور فلسفیانہ تاول حی ابن يقظان تھا۔یہ ا 167ء میں شائع ہوا۔ایڈورڈ پوکاک یورپ میں پہلا مستشرق تھا جس نے عربی زبان کی کتابوں اور خاص طور پر فلسفے کی کتابوں کی اہمیت کو پہچانا، فلسفے پر اس کی کتاب کا انگریزی ترجمہ 1645ء میں کیا گیا جبکہ اس کے ہم نام بیٹے نے اس کتاب کو عربی متن اور لاطینی ترجمے کے ساتھ 1671ء میں شائع کیا۔ابن طفیل کے ناول کے انگریزی ترجمے کے بعد اس کے ڈچ اور جرمن تراجم سترھویں اور اٹھارویں صدی میں شائع ہوئے۔یوروپین مصنف ڈے نو (Defoe) کے اول(1719 Robinsan Crusoe) کا ماخذ بھی ابن طفیل کا ناول تھا۔اسی زمانے میں پوکاک کے ایک شاگر د سیموئیل کلارک ( 166-1625 Samuel Clark) نے ایک کتاب لاطینی میں لکھی یعنی ٹریکٹس ڈی پروسوز یا عربکا ( 1661 Tractatus de Prosodia Arabica)۔اس میں فلسفے کی تعلیم اور خاص طور پر 92