ابن رشد

by Other Authors

Page 91 of 161

ابن رشد — Page 91

باب پنجم بحیثیت فلسفی و شارح ارسطو یورپ میں اسلامی فلسفے کا فروغ اسلامی فلسفے کی اہمیت کا جب یورپ کے اہل علم کو بارہویں صدی میں اندازہ ہوا تو اسلامی اسپین میں ٹولیڈو ( طلیطلہ) کے شہر میں عربی کتابوں کے عبرانی اور لاطینی تراجم کا کام پورے زور شور سے شروع ہو گیا۔ان مترجمین میں مسلمان، عیسائی، یہودی اور اپنینی مترجمین شامل تھے۔ان کا سرخیل (ڈین آف ٹرانسلیٹر ز ) جیرارڈ آف کریمونا (1187-1114 ء ) تھا جس نے فلسفہ و سائنس کے موضوع پر 70 شاہکار عربی کتابوں کے تراجم لاطینی میں گئے۔1180ء میں متعدد ترجمین نے مل کر شیخ الرئیس ابن سینا کے فلسفے کا انسائیکلوپیڈیا ، کتاب الشفاء کا ترجمہ مکمل کیا۔الشفاء نے عہد وسطی میں یورپ کی یونیورسٹیوں میں کئی سو سال تک فلسفہ اور سائنس کی تعلیم پر گہرا اثر چھوڑا۔یورپ میں اسلامی فلسفے کے تین دور تھے (1) پہلا دور 1100 ء سے 1250 ء تک جب عربی سے فلسفہ، الہیات اور سائنس کی کتابوں کے تراجم لاطینی ودیگر یورپی زبانوں میں کئے گئے۔چنانچہ قرآن پاک کا پہلا ترجمہ 1143ء میں رابرٹ آف چیسٹر نے کیا۔یورپ میں اسلام اور اسلامی سائنس میں دلچسپی پہلی صلیبی جنگ 1095ء کے بعد شروع ہوئی تھی۔(2) دوسرا دور 1250 ء سے 1400 ء تک کا ہے جب اسلام اور سرکار دو عالم ہے کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ عیسائی پادریوں نے کیا اور مخالفانہ کتا بیں شائع کی گئیں۔(3) تیسرا دور 1500-1400ء کے بعد کا ہے جب صلیبی جنگیں ختم ہوئیں اور یورپ میں اسلامی علوم سے دوبارہ دلچسپی بڑھی۔اور یورپ کی متعدد بڑی لائبریریوں میں عربی کتابوں کے قلمی نسخے اکھٹے کئے جانے لگے۔اٹلی میں 1588ء میں گرینڈ ڈیوک آف نوسانی فرڈی نانڈ وکی میڈیسی (Ferdinand de Medici) نے اپنے مطیع میں عربی کتابوں کی وسیع اشاعت کا کام شروع کر دیا تھا۔یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے دور( چودہویں تا 91