ابن رشد — Page x
رشد نے حیوانات پر جو کتاب تحریر کی تھی اس میں جانوروں کی توصیف بیان کرتے ہوئے زرافہ کے ذکر میں لکھا تھا کہ اسے اس نے شاہ بربر یعنی منصور کے یہاں دیکھا ہے۔ظاہر ہے یہ صریحی طور پر باشاہ کے لئے تو ہین کا باعث تھا۔نے معذرت پیش کی کہ اس نے شاہ برین لکھا تھا، قاری نے غلطی سے اسے شاہ بر بر پڑھا۔کا ایک بڑا کارنامہ تہافتہ انتہافتہ ہے۔یہ کتاب امام غزالی کی تہافت الفلاسفہ کی تنقید میں لکھی گئی تھی۔امام غزالی نے اس کتاب میں فلسفہ اور فلاسفہ کی دھجیاں بکھیری ہیں۔مسلمانوں میں سائنس اور فلسفہ کا جو شوق پیدا ہو گیا تھا اور مسلمان علمی و سائنسی طور پر جس تیزی سے ترقی کر رہے تھے ، غزالی کی تعلیمات کے زیر اثر اس کو بہت نقصان پہنچا اور وہ عقلی علوم سے دور ہوتے گئے۔پہلا شخص ہے جس نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور غزالی کے اثر کو زائل کرنے کی کوشش کی۔سرسید نے بھی مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے اور انہیں جدید سائنسی علوم سے آراستہ کرنے کی جب جدو جہد شروع کی تو انہیں بھی غزالی کی کتاب کا رد لکھنے کی ضرورت پیش آئی اور انہوں نے انتظر فی بعض مسائل الامام الغزالی تصنیف کی۔فقہ کے ساتھ ہیئت ، فلکیات اور طب میں کے اضافات کا ذکر ذکر یا ورک نے بہت تفصیل سے کیا ہے۔طب میں بعض دریافتوں کا سہرا کے سر ہے۔مثلاً چیچک اور پر دو بھارت کے سلسلہ میں اس کے بیانات قابل قدر اضافہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔جالینوس کی بیان کردہ بدن کی تیسری حالت "لا صحت ولا مرض" سے وہ اتفاق نہیں کرتا ہے۔اس کے نزدیک فعل تولید میں عورت کی منی کا کوئی دخل نہیں ہے۔عورت بغیر انزال حاملہ ہو جاتی ہے۔اس نے لکھا ہے کہ اس سلسلہ میں جب مجھے ارسطو کا نظریہ معلوم ہوا تو میں نے اس کو محسوس کرنے کی کوشش کی اور تجربہ سے یہ بات صحیح معلوم ہوئی۔اس طرح اس نے اس رائج نظریہ کی تردید کی کہ مرد اور عورت دونوں کی منی سے مل کر ایک تخلیق وجود میں آتی ہے۔بعض مسائل میں اس نے جالینوس سے اختلاف کیا۔مثلاً جالینوس متصلب دواؤں کو رطوبت کے ساتھ مشروط کرتا تھا۔نے کہا کہ مصلب دوائیں بارو ہوتی ہیں۔صلابت اور جمود کا سبب برودت ہے نہ کہ رطوبت - مرطب دوا میں سختی نہیں پیدا کر سکتیں۔برودت کے ساتھ پیوست کی شرط لگائی جاتی ہے۔کائی ، سدا بہار، خرفہ، اسپغول کو اس نے بارہ ہونے کی وجہ سے مصلب قرار دیا ہے نہ کہ رطب ہونے کی وجہ سے۔اس نے اب سے بہت پہلے تجربہ پرمینی بہت سی باتیں کتاب الکلیات میں درج کی ہیں مثلاً اس نے لکھا ہے کہ جب دو قسم کی غذا میں ہوں ایک بھر بھری (غیر روغنی) اور دوسری لیسدار ( روغنی) تو قطعی طور پر بھر بھری کا استحالہ جلد ہوگا۔کیونکہ وہ حرارت سے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر جلد منفعل ہو جاتی ہے۔بھر بھری غذا ئیں زود ہضم اور لیسدار اور روغنی اشیاء دیر ہضم ہوتی ہیں۔یا اس نے کہا کہ جالینوس اور اس کے متبعین نے ادویہ کے مزاج کو معلوم کرنے کے ذرائع میں صرف رنگ بوذائقہ اور جلد استحالہ پر اکتفا کیا ہے۔مثلاً ان کے نزدیک دوار حاروہ ہے جس کا مزہ تیز تلخ (iii)