مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 77
24 وہ روحانی طور پر اپنے پاؤں پر آپ کھڑی ہو سکے اور جماعت کے اندر ایسے نئے وجود پیدا ہو جائیں جو اپنی قربانی اپنے اخلاص اور اپنے تقویٰی کے لحاظ سے صحابہ کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہوں۔جہاں تک جانی اور مالی قربانیاں کرنے والے ہیں اور اس کے لئے ان کے اندر بہت زیادہ جوش بھی پایا جاتا ہے مگر روحانی رنگ ظاہری قربانیوں سے پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنا اس کے کلام پر غور کرنا، اس کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنا اور دوسروں کے اندر بھی ان صفات کو پیدا کرنا اس کا نام روحانیت ہے محض قربانیاں تو غیر اقوام اور غیر مذاہب کے لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔جو چیز دنیا کی دوسری قوموں کے اندر نہیں پائی جاتی اور صرف الہی جماعتوں میں ہی پائی جاتی ہے وہ اللہ تعالٰی کی محبت اور صفات الہیہ کو اپنے اندر جذب کرنا اور لوگوں کو ان چیزوں کی طرف توجہ دلاتا ہے اور یہی اصل روحانیت ہے۔اس کے بعد دوسری چیزوں کا نمبر آتا ہے " الفضل ، جولائی ۱۹۴۷، ص۱-۲) حضرت میر صاحب کے علاج معالجہ کی ہر ممکن کوششیں جاری تعیین حضرت ڈاکٹرحمہ اللہ خان صاحب کیپٹن ڈاکٹر شاہنواز صاحب اور صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب شب وروز اس خدمت پر متعین تھے۔ڈاکٹر عبد الحق ص ب ڈینٹل سرجن لاہور سے اور ڈاکٹر محمد یعقوب صاحب ماہر ایکس رے امرتسر سے بیگوائے گئے۔مگر منشاء الہی کچھ اور تھا۔24 وفا (جولائی) کو آپ پر نمونیہ کا سخت حملہ ہوا جس سے پھیپھڑے بھی بہت متاثر ہو گئے اور غشی میں بھی اضافہ ہو گیا۔اسی عالم میں ۱۸ روقار جولائی جمعہ کا دن آگیا اور حالت تیزی سے بگڑنے لگی۔اس تشویشناک مرحلہ پر حضرت مصلح موعود ان کی کوٹھی ( دار الصفہ میں تشریف لے گئے۔نور ہسپتال کے تمام ڈاکٹر بھی پہنچے گئے۔معائنہ کے بعد علاج کا مشورہ ہوا حضور نے سب سے پہلے فرمایا کہ آکسین دی جائے جولاہور کے سوانہ مل سکتا تھا۔آخر معلوم ہوا کہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے کارخانہ میں کمرشل آکسیجن ہے وہ لاکرہ شروع کر دی گئی میں سے