مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 78 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 78

" چہرہ کی نیلاہٹ سُرخی میں تبدیل ہوگئی۔پھر نسلین کا ایک لاکھ یونٹ دیا گیا اور ساتھ ہی کو نین کا میکہ بھی۔مگر بے ہوشی میں کمی نہ ہوئی اور ساتھ ہی ۱۰۴- ۵ تک بخار ہو گیا۔اس موقع پر حضرت مصلح موعود نہایت میرا اور اطمینان سے ڈاکٹروں کو ضروری ہدایات دیتے رہے۔ساڑھے چھ بجے شام کے قریب حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب نے سورہ یسین کی تلاوت نہایت سوز اور درد میں ڈوبی ہوئی آواز کے ساتھ شروع کر دی۔خاندان حضرت مسیح موعود کی قریباً سب خواتین اور بزرگان اور صاحبزادگان خاموشی سے اپنا اپنا حق خدمت ادا فرما رہے تھے جن میں پیش پیش حضرت میر صاحب کی اہلیہ ثانی تھیں۔ساڑھے سات بجے کے قریب جبکہ حضرت المصلح الموعود اور ڈاکٹر شاہنواز خاں صاحب محنت میں حضرت میر صاحب کی حالت پر تبصو کر رہے تھے کہ اچانک اندر سے آواز آئی کہ جلدی آئیں حالت خطر ناک ہے۔اس پر حضور مع ڈاکٹر صاحب اندر تشریف لے گئے۔دیکھا کہ حضرت میر صاحب کا سانس اکھر رہا ہے اور نبض بالکل بند ہے۔سات بجبکہ چالیس منٹ پر آپ نے آخری سانس لیا۔آہ ! وہ سانس کیا تھا ، صرف مبارک اور پیارے لبوں کی آخری معمولی سی جنبش متقی اور قلب کی حرکت ہمیشہ کے لئے بند ہوگئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔اس سانحہ ارتحال کے بعد حضرت مصلح موعود نے وضو فرما کر خدام کو نماز مغرب پڑھائی اور حضور نے آپ کی وصیت کے مطابق فیصلہ فرمایا کہ آپ کو حضرت نانی اماں کی تیر اور دیوار کے درمیان قطعہ خاص میں جگہ دی جائے۔پھر حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔میں شام کے قریب ڈاکٹر شاہنواز خان ناقل صاحب کو ساتھ لے کر ٹیل رہا تھا کہ میری نگاہ سامنے کے مکان پر پڑی جہاں زروسی دھوپ نظر آرہی تھی گویا تین چار منٹ سورج غروب ہونے میں تھے۔اس وقت میں نے اس خیال سے کہ شاید میر صاحب کی طبیعت پر کسی خواب کی بناء پر یہ اثر ہو کہ جمعہ :