مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 657 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 657

۶۵۶ بھی ان کو اپنی سچائی کا نشان سمجھتا ہے اور واقعی یقین کر لیتا ہے کہ میرے ہاتھ میں پہلے کچھ نہ تھا اور ابھی ابھی یہ مینڈک پیدا ہوا ہے۔اور میں واقعی گجرات میں تھا کہ یکدم بغیر ریل کے گوجرانوالہ میں آگیا ہوں۔اور یہ ٹھیے یکدم غیب سے میرے پر فلاں وقت نازل ہوئے۔چونکہ یہ مانومینیا Mono Mania اور موم نمیونزم Somnambulism کی شاخیں ہیں۔اس لئے بعض سادہ اور نا واقف انسان چکر میں آجاتے ہیں۔اصلیت اس شعبدہ کی یہ ہے کہ ایسا انسان بیب اپنی عصبی اور دماغی بیماری کے بعض حصہ اپنے افعال کا بھول جاتا ہے۔یا اُسے یا د ہی نہیں رہتا۔کہ میں نے فلاں حصہ اس فعل کا خود کیا ہے۔دماغ اس کے افعال کے ایک حصہ کو ایسا پھلا دیتا ہے۔که واقعی وہ ایک کام کر کے پھر بھی ہیں یقین رکھتا ہے۔کہ میں نے یہ نہیں کیا۔اس کا جنون اس کے افعال کے بعض حصوں پر غالب آجاتا ہے۔چنانچہ کئی لوگوں نے سوتے سے اُٹھ کر قتل اور خون کہ دیئے ہیں۔اور پھر گھر میں آکر لیٹ گئے اور دوسرے دن ان کو پتہ بھی نہ تھا کہ یہ کام ہمارے ہاتھ سے ہی ہوا ہے۔گویا دہ عصبی نیند تھی یا جنون کے جوش میں ایک وارفتگی تھی۔جوان کی قوت حافظہ کو دبا لیتی تھی۔ایسا انسان اگر کو ئی مینڈک پیدا کرتا ہے تو اسکی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک مینڈک پڑتا ہے اسے اپنے ہاتھ میں آتا ہے اور کہتا ہے کہ دکھ بھی لاتے میرے ہاتھ پر یہ معجزہ جاری کیا ہے۔یہ کہہ کہ ہاتھ کھوتا ہے۔اور لوگ اس میں سے ایک اصلی مینڈک پھر کتا دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔بات صرف اتنی تھی کہ ایسے شخص نے جس وقت سے وہ مینڈک پکڑا تھا۔اور جب اُسے لوگوں کو ہ کھایا تھا۔درمیانی عرصہ کا سارا فعل سبب شدت خواہش نفس اور شدت جنون اسے بالکل بھول جاتا ہے۔اور دماغ کی سطح سے اس فعل کے تاثرات گم ہو کر اندرونی طبقوں میں چلے جاتے ہیں۔اور ایک حصہ اپنے فعل کا اس کے مرض کی وجہ سے اس کے دماغ سے سراسر محو ہو جاتا ہے۔ایسے لوگ بعض اوقات ساری ساری رات پھرتے رہتے ہیں۔اور پھر صبح کے قریب آکر اپنی چار پائی