مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 656
۶۵۵ معجزات و کرامات کے پردہ میں ایک دھوکہ بعض لوگ جب بعض قسم کے جنونوں کو پہچان نہیں سکتے۔تو وہ حیران ہو کہ دریافت کرنے گتے ہیں۔کہ ہم نے فلاں شخص سے یہ عجیب بات صادر ہوتے دیکھی ہے۔اس کی کیا توجیہ ہے ؟ مثال کے طور پر ایک نوجوان کو جب ایک خاص قسم کا عصبی حملہ ہوتا ہے تو وہ بعض وقد شمی آگے کر کے کہ دیا تھا کہ خدا نے اس وقت میرے ہاتھ میں ایک مینڈک پیدا کیا ہے۔یہ کہہ کر میٹھی کھوں تو واقعی ایک مینڈک پھوک که با ہر نکل آتا۔اور لوگ حیران رہ جاتے۔ایک اور نوجوان مجھے گوجرانوالہ میں ملا کہ میں گجرات میں ہوتا ہوں تو دھڑام کے ساتھ یہاں گوجرانوالہ میں پلک جھپکتے میں آپڑتا ہوں۔اسی طرح گو جر امالہ سے گھبرات چلا جاتا ہوں بعض ایسے آدمی ہیں جو کلمہ کا ٹھپہ یا بیچ لئے پھرتے ہیں کہ یہ غیب سے ہم کو ملا ہے اور ہماری کرامت کا نشان ہے۔مگران امور کے سواحب ان لوگوں سے باتیں کہو تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بالکل دین کی اصلیت سے ناواقف۔خدا کی صفات سے نابلد اور معجزہ کی حقیقت سے بے خبر ہوتے میں اور Mono Mania یعنی جنون کی ایک خاص قسم ان پر مسلط ہوتی ہے۔چونکہ ان شہیدوں کی وجہ سے عوام ان کی بعض اوقات ان کے دھوکہ میں آجاتے ہیں۔اس لئے آج میں ایسے معجزات کی ایک اصلیت لکھتا ہوں۔تاکہ حقیقت سے اطلاع پا کر نا واقف لوگ دھوکہ میں نہ پھنسیں۔حقیقت ان معجزات کی یہ ہے کہ یہ خود ان کی بیماری کا ایک مظاہرہ ہوتے ہیں۔اور عجیب قسم کا مظاہرہ ہیں۔قریب اور افتراء نہیں ہیں۔بلکہ مرض کا جزو ہیں۔اور خود بیمار