مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 658 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 658

486 پر سو جاتے ہیں۔اور صبح ان کو ذرا بھی یاد نہیں ہوتا۔کہ ہم گھنٹوں دیواروں اور سڑکوں اور جنگوں میں پھرتے رہے ہیں۔پس اس بیماری میں مریض ایک حصہ اپنے معمل کا بھول جاتا ہے۔چنانچہ جو شخص گجرات سے گوجر انوالہ ایک منٹ میں آتا تھا۔اس کی بھی یہی حالت تھی۔کہ وہ گھر سے چلتا تو اس پر وہ کیفیت نقظۂ نومی کی وارد ہو جاتی۔وہ ریل میں سفر کر تا تھا اور گوجرانوالہ اتر کر اپنے مقام پر پہنچے کہ کہا کرتا تھا۔کہ دیکھو میں گجرات میں تھا یہاں کسی طرح پہنچے گیا۔گھر سے نکل کر گوجرانوالہ اپنے مقام پر پہنچنے بیک کے فعل کا سارا حافظہ اس کے دماغ سے جا تا رہتا تھا۔اسی طرح جو شخص کلمہ GALAT WALA TANA اللہ کے مصنوعی رو پے جو دنیا میں ہزاروں عمد کہتے ہیں اور رائج ہیں حاصل کر کے ان کو لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔اور ممکن ہے کہ ان ٹکڑوں کو حاصل کرنا اور چھپا کہ رکھنا وغیرہ اس کا جنون بالکل دبائے۔اور دماغ سے اس حافظہ کو بالکل کھو کہ دے۔اور پھر اس کا جنون اُسے ہی دھوکہ دے کہ دیکھ یہ غیب سے تیرے پاس آئے ہیں اور چونکہ تو مقربان بارگاہ الہی سے ہے۔اس لئے تیرے لئے خدا نے یہ معجزہ قرار دیا ہے۔پس یہ بیماری کی علامت یعنی حافظہ کا خوابیدہ ہو جانا اس قسم کے جنون کی ایک عجیب علامت ہے۔جس سے ناواقف آدمی دھو کہ کھا سکتا ہے۔اسے پرانے لوگ اشراق کے نام سے تعبیر کرتے تھے۔بلکہ ایسی حالت کو سلف مسمریزم کہ کے خود اپنے پر طاری کیا کرتے تھے اور اسے علم اشراق کے نام سے موسوم بھی کیا کرتے تھے۔مگر اس زمانہ میں جو ایک علمی زمانہ ہے۔ایسے معجزات کوئی معنے نہیں رکھتے۔اور بھا بہتی کے تماشے سے زیادہ ان کی کوئی وقعت نہیں۔اصل معجزہ مصفا علم غیب اور الہامی پیشگوئی کا معجزہ ہے جو شائع ہو کر اور پورا ہو کر خداوند عالم الغیب کے وجود پر گواہ ہوتا ہے۔اور اس سے بھی بڑھ کر معجزہ تائید و نصرت الہی کا ہے۔جو باد جود تمام دنیا کی مخالفتون کے ایک ملزمہ انسان کو ہر میدان میں فتح دیتی ہیں۔نہ کہ مینڈک یا ٹھیکریاں جن میں ہزاروں دھوکوں کا احتمال ہے۔اور یمن کا پیش کرنا بھی جانے شرم ہے۔جب ایسے نقطہ نرمی والے