مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 655
قائم کرنے سے اور زکواۃ کے دینے سے نہ تجارت اور نہ سود اینچنا غافل کرتا ہے۔کی آیت سے ظاہر ہے کہ یہ عہدہ بھی مردوں سے ہی مخصوص ہے۔شاید کسی کو خیال پیدا ہو۔کہ کیا کوئی عورت مصلح موعود کا دعوی کر سکتی ہے ؟ سو یہ امر بھی ممتنع ہے۔کیونکہ مصلح موعود بھی موجب پسر موعود- فرزند دلبند۔وجیہہ اور پاک لڑکا زگی غلام وغیرہ الفاظ اور مذکر ضمیروں کے ایک مرد ہی ہو سکتا ہے نہ کہ عورت۔شاید کسی کے دل میں یہ وسوسہ گذرے کہ حضرت مسیح موجود آپ رسلامتی ہوا کو یا مریم کے خطاب سے الہام کیا گیا ہے۔اس لئے شاید عورت بھی نبوت کی حقدار ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ استعارہ ایسے الفاظ کا استعمال مضائقہ نہیں رکھتا۔مریم کے لفظ میں تھا ایک عورت سے ہی مشابہت ہے۔مگر بعض الہامات میں ایک جانور یعنی شہر سے مشابہت موجود ہے اور خود حضور نے اپنے نہیں ایک درخت سے بھی مشابہت دی ہے جیسا کہ فرمایا ہے اک شجر ہوں جس کو داڑی صفت کے پھیل گئے پس یہ سب طبیغ و لطیف استعارات ہیں۔حقیقت مراد نہیں ہے۔ہمیشہ محکمات کی پیروی لازم ہے نہ کہ متشابہات کی۔(روز نامہ الفضل نے بھون ۱۹۴۴ء) :