مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 654
۶۵۳ موعود را آپ پر سلامتی ہوا سے بڑھ کر ہونے کا دعوی کرتی ہے تو وہ یقینا بیتہ ہونے کا دعوی کرتی ہے۔اور یہ امر محال ثابت ہو چکا ہے اگر وہ کے میں نبیہ نہیں ہوں۔مگر بڑھ کر ہوں۔تو یہ ایک قابل مضحکہ دعویٰ ہوگا۔ہاں عورت غیر مامور ولی ہو سکتی ہے۔مگر اس صورت میں وہ کسی کو اپنا متبع ہونے کی تبلیغ نہیں کر سکتی۔اور اپنی طرف دعوت نہیں دے سکتی۔مگر ایسی تم ترا میں عورتیں اس مست میں اور گزشتہ قوموں میں گذر چکی ہیں اس زمانہ کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔اگر کوئی عورت بچے خواب یا الہامات حاصل بھی کرے۔تب بھی وہ زیادہ سے زیادہ صدیقہ بن جائے گی۔اور ایک صدیق کی نسبت پھر بھی اس کا دائرہ عمل نہایت درجہ محدود رہے گا۔شاید کوئی معترض کہہ دے کہ جب ایک عورت بادشاہ ہو سکتی ہے۔تو وہ نبی بین کم ہدایت بھی کر سکتی ہے۔اس کا جواب ایک تو نقلی ہے جو گذر چکا ہے مگر عقلی جواب یہ ہے کہ بادشاہت تو وہ دوسرے مردوں کے سہارے اور ان کی مدد سے کرتی ہے لیکن ثبوت تو ایسی چیز نہیں ہے اور بادشاہ تو نا بالغ بچے بھی ہو سکتے ہیں۔پھر کیا نابالغ بچے نبی بھی ہو ہو سکتے ہیں ؟ے پس یہ دلیل محض ایک لفظی دھوکا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ بادشاہت اور حکومت تو چلتی ہی ہے بہت سے مددگاروں کے سہارے سے ، حالانکہ نبوت خدا تعالے کی طرف سے ایک شخص کے مامور ہو کر تمام مخلوقات کو ہدایت کی طرف بلانے کا نام ہے۔نہ کہ لوگوں کی مدد سے جتھہ بنانے کا نام نبوت ورسالت کو الگ رہی۔قانون اسلامی کے ماتحت تو عورت خلیفہ بھی نہیں ہو سکتی۔جیسا کہ سورہ نور میں يجَالُ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْحُ (النور (۳۸) ترجمه ، ( یہ ذکر کرنے والے) کچھے مرد ہیں جن کو اللہ کے ذکر سے اور نماز کے