مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 653
۶۵۲ غیر معمولی بات کے ثبوت میں یا تو کوئی آیت و حدیث ہم کو ملنی چاہیئے تھی یا کسی عورت کا خاص ذکر پیش گوئیوں میں پایا جانا چاہیئے تھا کہ وہ قیامت سے پہلے مبعوث ہونے والی ہے تورین ہر طرح سے یہ عقیدہ غلط ہے۔عقلاً بھی اگر دیکھا جائے۔تو معلوم ہوگا کہ عورت مامور نہیں ہوسکتی۔کیونکہ اس کی فطرتی کمزوریاں اس کے مامور ہونے میں مانع ہیں۔مثلاً حیض، نفاس ، حمل ارضاعت۔اس کا شادی شدہ ہونا۔اور اس کا مطیع ہونا۔اس کا مردوں کے لئے محل شہوت ہوتا۔اور اس کا مرد سے کمزور ہونا جسمانی، ذہنی اور انتظامی قومی کے لحاظ سے چونکہ تاریخی طور پر ہم کو کوئی کمی بیتہ نظر نہیں آتی اور مقفلی طور پر کوئی صورت ماموربین نہیں سکتی۔اس لئے فیصلہ نہایت صاف ہے کہ عورت کا بنی بننا محال ہے۔مردوں کی طاقت۔علم ، رعب اور سیت بھی عورت کے بنی بنتے ہیں روک ہیں وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينِ (الزخرف ١٩٠) ترجمه دور اور جھگڑے میں اپنا مافی الضمیر ٹھیک طرح ادا نہیں کر سکتی وہ خدا کے حصہ میں آتی ہے اور غالب رہنے والا مرد انسان کے حصہ میں) ہاں اُسے الہام ہو سکتا ہے۔بچے خواب آسکتے ہیں۔وہ ولی ہو سکتی ہے مگر مامور کی طرح پبلک کو دعوت الی الحق اپنے تئیں ہادی پیش کر کے نہیں کر سکتی۔وہ اور کوئی اس کے ماننے پر مکلف اور مجبور نہیں۔اسلامی شریعت میں تو پردہ ہی سب سے پہلی روک ہے ، اگر وہ محمد رسول اللہ کی اُمت میں اور آپ کی شریعت پر عامل ہے۔تو اسے پردہ کرنا پڑے گا۔اگرہ تہ کرے گی تو مسلمان اس کی بات کسی طرح مانیں گے۔اور اگر پردہ کرے گی۔تو وہ ایک IN APPROACH ABLE۔نبی کی طرح بے فائدہ وجود ہوگی یہ پھر اس زمانہ میں اگر کوئی عورت اپنے تئیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مسیح