مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 640 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 640

ура راہ میں یہ تکلیف اٹھائی ہے۔پھر رنج کا ہے گا۔اسی طرح جب جنگ احزاب سے پہلے خندق کھودی جاتی تھی۔اور غالباً اس وقت بھی جب مسجد نبوی تعمیر ہو رہی تھی تو حضور جو مزدوروں کی طرح صحابہ کے ساتھ مل کر کام کیا کرتے تھے۔پکار پکار کر بعض اشعار پڑھا کرتے تھے۔اور کبھی صحافیہ اشعار پڑھتے تو حضوران کا جواب دیا کرتے تھے۔اب صرف ایک بات رہ جاتی ہے۔وہ یہ کہ قرآن مجید کسی شاعر کا قول نہیں ہے ؟ یا یہ کہ ہم نے اس رسول کو اشعار کی تعلیم نہیں دی یہ ایسی آیات جو قرآن مجید میں مذکور ہیں۔ان سے کیا مراد ہے ؟ سوداضح ہو کہ ان کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ شعر ہمیشہ بڑی چیز ہی ہوا کرتا ہے۔بلکہ صرف اتنا مطلب ہے کہ قرآن مجید اشعار میں نازل نہیں کیاگیا بلکہ نشر میں نازل کیا گیا ہے۔شائد اس بیان سے بعض لوگ یہ دھوکہ کھائیں۔کہ چونکہ کوئی الہلمی کلام یا الہام شعار میں نہیں ہوتا۔اس لئے شعر ضرور کوئی مکر وہ چیز ہے۔سو یا د رہے کہ یہ خیال بھی غلط ہے۔دنیا میں خدا کا کلام اور وحی و الہام اشعار کی صورت میں بھی نازل ہوا ہے۔اور اب تک ہوتا ہے۔حضرت داؤد کے زیور حضرت سلیمان علیہ السلام کی نغزل الغزلات - حضرت ایوب علیہ السلام کے نکات تصوف سب گیتوں یا شعروں میں موجود ہیں۔جہاں یہ درست ہے کہ چونکہ قرآن موسی کی کتاب کی طرح شریعت کی ایک کتاب ہے۔اس لئے شرعی کلام سوائے نیٹر کے اشعار کی صورت میں نازل نہیں کیا جاتا۔کیونکہ نشر تو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے۔بچہ عورت اور کم علم سادہ لوح انسان سب اس کا مطلب اخذ کر لیتے ہیں۔اس لئے شریعت اپنے بیان کے لئے ہمیشہ سادہ اور غیر چیپیدہ نثر کے الفاظ چاہتی ہے۔تاکہ ہر طبقہ کے لوگ اسے سمجھ سکیں۔اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید شعروں میں نہیں ہے۔کیو نکہ اشعار شرعی نبی کے الہام کے مناسب حال نہیں ہوا کرتے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ شعر کوئی قابل مذمت چیز ہے۔جیسا کہ بعض نا واقف سمجھتے ہیں کفار نے بارہا قرآن پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ کامنوں کے اقوال ہیں۔یا شاعر کے اشعار اور بعض نے تو کہہ دیا کہ یہ کلام نہیں بلکہ جادو اور سیحر ہے۔ان اعتراضات