مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 641
45%۔کی وجہ یہ ہے قرآن کی آیات کا ہنوں کے موزون فقروں کی طرح قدرے قافیہ دار ہیں اور شاعروں کے اشعار کی طرح ان کی فصاحت و بلاغت اور بلند پروازی نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے۔بلکہ اس سے زیادہ یہ کہ اس میں ایک تیسری چیز بھی ہے اور وہ ہے اس کا انقلابی اثر اس کی قلوب پرکشش اور اس کی کایا پلٹنے والی خاصیت۔پس ان وجوہ سے اسے سحر کہا جاتا تھا۔حالانکہ نہ وہ شعر ہے زکہانت نہ سیحر بلکہ ان تینوں کا مجموعہ اور ان سب سے بالاتر اور ارفع و اعلیٰ چیز ہے۔جو علاوہ ان جملہ کمالات کے انسان کے نفس کو پاک صاف کرتا۔فرمن کو ہدایت اور عقل کو روشن ضمیری نیتا۔اور روح کو معرفت بصیرت حکمت نورانیت ، رشد اور حق سے بھر پور کر دیتا ہے۔دوسری وجہ قرآن کے اشعار میں نہ ہونے کی یہ بھی ہے۔که ده اکثر عقل سے اپیل کرتا ہے۔نہ کہ جذبات سے اور ٹھوس دلائل پر اپنی صداقت کا انحصار رکھتا ہے۔نہ کہ لطائف پر۔تیسرے یہ کہ شعر لبیب قافیہ اور ان بحروں کی پابندی کے اتنی زیادہ سنجیدہ اور قابل وثوق چیز نہیں ہے۔جیسے کہ نثر اور اس میں حشود زائد الفاظ کا میعی امکان ہے جو نثر میں نہیں ہوتا۔اس لئے شرعی وحی کے لئے وہ نثر سے کم درجہ پر بھا گیا ہے۔امور نار الفضل ۲۶ جنوری ۱۰ فروری ۶۱۹۴۴