مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 639
جبرئیل بھی تیری تائید و نصرت کرتا رہے گا۔نیز اپنا منیران کے لئے بجھوا دیا کرتے تھے پھر خود معہ صحابہ کرام ان کے ایسے اشعار سنا کرتے تھے سو یہی حال حضرت مسیح موعود ر آپ پر سلامتی ہو کے اشعار کا ہے کہ وہ بھی از اول تا بالا خرقہ العالی اور اس کے رسول کی حمد و نعت یا مخالفین اسلام کے مقابلہ میں کہے گئے ہیں۔ایک دفعہ کسی صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور کی رائے شعر کی بابت کیا ہے۔حضور نے فرمایا کہ مومن کبھی تلوار سے جہاد کرتا ہے۔اور کبھی زبان سے یعنی دین کی تائید میں شعر کہنا لسانی جہاد میں داخل ہے۔اور آج کل توسیقی جہاد کے سب راستے بند ہیں۔صرف دلائل کا زبانی جہادری دنیا میں باتی ہے۔پس اس جہاد کو جو شخص خدا اور اس کے رسول کے لئے کہے وہ ایسا ہی مجاہد ہے جیسے کہ زمانہ سابق والا تلوار کا مجاہد۔اسی طرح کسی اور شخص نے حضور سے شعر کے بارہ میں پوچھا۔تو آپ نے فرمایا کہ شعر بھی تو کلام ہی ہے۔اس کا مضمون اچھا ہو۔تو وہ بھی اچھا ہے۔اور مضمون بڑا ہو تو وہ بھی بڑا ہے۔غرض مدار صرف مضمون پر ہے نہ کہ شعر ہونے پر۔علاوہ ازیں نہایت صحیح روایات سے ثابت ہے کہ حضور نے خود بھی بعضی شعر کہے ہیں۔مثلاًاے اللهم لاعيش الا عيش الآخره فاغفر الانصار والمهاجرة یعنی اسے اللہ اصل زندگانی تو آخرت کی زندگانی ہی ہے۔پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔اسی طرح ایک جہاد میں حضور کی انگشت مبارک زخمی ہوگئی تو آپ نے اُسے دیکھ کر فرمایا ہے هل انت الا اصبح دمين وفي سبيل الله ما لقيت یعنی تو تو ایک ذراسی انگلی ہے جس میں سے خون نکل آیا ہے اور تو نے اللہ کی