مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 638 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 638

شاعر (قسط دوم ) الفضل مورخہ 14 جنوری ۱۹۴۷ء میں کی یہ قرآن مجید کی رائے شاعروں کی بابت لکھ چکا ہوں کہ دو قسم کے شاعر ہیں۔ایک خدا تعالٰی کے ہاں پسندیدہ اور ایک غیر پسندیدہ اور یہ نہیں ہے کہ شعر ہمیشہ ہی بڑا ہوتا ہے شعر تو صرف ایک موزوں کلام ہے جو اگر بدی کی تعلیم دیتا ہے تو برا ہے۔اور اگرنیکی کی تو اچھا ہے۔آج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے اسی شعر و شاعری کی بابت بیان کر تا ہوں۔صحیح بخاری میں حضور کا ایک قول مروی ہے کہ ان من الشعر لحكمة - يعنی بعض شعر میں حکمت ہوا کرتی ہے۔اب حکمت ایک ایسی مفید اور بابرکت چیز ہے۔جس کی خوبی میں کسی کو بھی کلام نہیں۔یہاں تک کہ و من يوت الحلمة فقد أوتي خيرا (البقره ۲۷۰۰) اجے حکمت عملی سمجھ لو کہ اُسے خیر کثیر مل گئی اس کی تعریف خود قرآن مجید میں موجود ہے۔علاوہ ازیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کبھی کبھی گوشتہ شعراء کا عمدہ کلام سنا کر تے تھے۔اسی طرح کفار عرب اور یہود جب اپنے اشعار میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی برائیاں اور جو بیان کیا کرتے تھے۔تو ان کا جواب آپ اپنے بمباری شاعر حسان بن ثابت سے دلوایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ حسان تو بھی ان مشرکوں کی جو کہ چہر پیل تیری مدد پر کھڑے ہیں۔اسے حسان تو میری طرف سے ان کا جواب دے۔اور ساتھ ہی دُعا فرماتے کہ یا اللہ حسان کی تائید روح القدس سے فرما۔اور ان سے یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اے حسان جب تک تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مخالفوں کا مقابلہ کرتارہے گا۔