مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 637
۱۳ راه اول یہ کہ وہ مومن اور نیک عمل ہوتے ہیں۔بد معاش منڈی کے سر کردہ نہیں۔بلکہ ان کے اثر سے دوسرے لوگ بھی ایمان اور نیکی ہیں ترقی کرتے ہیں۔۱۲ دوسرے یہ کہ نیک شاعروں کے اشعار کا مرکزی نقطہ اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات ہوتا ہے۔ہر پھر کر ان کے شعروں میں اسی کا ذکر اسی کی تعظیم اسی سے دعا اسی کے کلام کے حقائق و معارف اس کے رسول کی نعت اور اسی کے احکام کی تبلیغ ہوتی ہے۔تیسری تعریف اچھے شعراء کی یہ فرمائی۔کہ جیب گمراہ کا فریبا بد دین لوگ اسلام قرآن یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا بزرگان دین یا خودان پر یا خدائی تعلیموں پر ظالمانہ حملے اور اعتراضات کریں تو وہ سینہ سپر ہو کر ڈیفینس کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان حملوں کا جواب دیتے ہیں اور دلائل سے زبانی اور قلمی جہاد کرتے ہیں۔نیز خدا کے لئے، خدائی سلسلوں کے لئے ، خدا کے مرسلوں کے لئے اور اپنے لئے غیرت دکھاتے ہیں۔اور ظالم دشمن سے بند یعہ اشعار کے یہ رعایت اخلاق بدلہ لیتے ہیں۔سو ایسے شاعر بھی خدا کے نزدیک پسندیدہ ہیں۔اب اس تفصیل کے بعد جب ہم حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوا کے اشعار کو جو حضور نے اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں۔بغور دیکھیں تو خدا کے پسندیدہ شاعروں والی تینوں۔باتیں ہیں ان میں بہت نظر آئیں گی۔یا تو ایمان اور اعمال صالحہ کا ذکر ہے۔یا اللہ تعالیٰ کی جھر اس کے رسول کی نعت قرآن کی مرح اور اسلام کی صداقت کا ذکر ہے۔یا پھر جو حملے ظالم دشمن نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ دستم۔دین اسلام اور قرآن پر کئے ہیں۔اور سلسلہ حقہ احمدیہ پر الزامات لگائے ہیں۔ان کا جواب ہے اس سے زیادہ ان تین باتوں سے باہر حضور کا ایک شعر بھی نہیں ہے۔بر خلاف اس کے پہلی تین باتیں جو بڑے شاعروں کی بیان کی گئی ہیں۔ان میں سے ایک بات بھی حضور کے کلام اور حضور کی جماعت اور حضور کے اخلاق میں نہیں پائی جاتی۔اور یہی آپ کے پاک اور محبوب الہی شاعر ہونے کی دلیل ہے