مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 608 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 608

برتن чов برتنوں کے متعلق ایک صورت کفایت کی یہ ہے کہ قلعی کرانے والے برتن کم استعمال کئے جائیں۔ایک دیگچی جو دورو پے کو آتی ہے۔اس پر تین سال میں تین روپے صرف تلکھی کے خرچ ہو جاتے ہیں۔فضول تار مغرب سے ایک کو یہ بھی آگئی ہے کہ فلاں جگہ کھانا ہے۔فورا تار دے دو کسی دوست کو کوئی خوشی پہنچے تو فور اتار دے دینا۔غرض تار کیا ہے۔ایک فیشن ہو گیا ہے۔میں نے دیکھا۔کہ کسی شخص نے جمعہ کو ایک خط اپنے دوست کو لکھا کہ میرا بھائی بہار ہے۔وہ خط وہاں ہفتہ کو پہنچ گیا۔لیکن اس دوست نے اس کا جواب تک نہ لکھا۔درنہ اس کا خط وہاں اتوار کو مل جاتا۔پیر کے دن اُن دوست کو خیال آیا کہ اوہو! پرسوں سے خط آیا ہوا ہے ہم نے اپنے دوست کو اس کا جواب تک نہیں دیا۔پھر کیا تھا ڈیل تار لکھ مارا در VERY ANXIOUS HOW IS YOUR BROTHER WIRE IMMEDIATELY گویا نہ صرف اپنے پیسے ضائع کئے اور تار دو دن چھوڑ کر بے وقت بھیجا بلکہ بیچارے دوست پر بھی جرمانہ کر دیا۔کہ تم تاریخیں جواب دو۔ہم نہایت متفکر ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر پی نے متفکر ہوتے۔تو کیوں دو دن پڑے سوتے رہتے۔کوئی لڑکا پاس ہو جائے۔تو گویا شرعی فریضہ ہے کہ ہر شخص آٹھ دس آنے ضرور ضائع کرے۔اس طرح لوگوں کا سینکڑوں روپیہ خرچ ہو جاتا ہے۔جس میں زیادہ حصہ اسراف میں داخل ہوتا ہے۔کسی کو بیمارسن لیں۔تو بجائے خط کے یہ فرض سمجھا جاتا ہے کہ تار بھیجا جائے