مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 607 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 607

سیشنری کے متعلق 4۔4 اس میں بڑا اندھیر کا خرچ ہوتا ہے۔اگر سستے پیڑا ور لفافے لے لئے جائیں تو اس میں کون سی ذلت ہے۔بعض لوگ اگر توجہ کہیں تو اپنی سٹیشنری کا خرچ چوتھائی کر سکتے ہیں۔یکن یہ تو امیروں کی بابت ہے۔بڑا اندھیر تو سکولوں اور ماسٹروں کی طرف سے ہوتا ہے۔غریبوں کو روٹی تو میسر نہیں۔مگر لڑکے لڑکیاں ہر دوسرے تیسرے دن تقاضا کرتے ہیں کہ ماسٹرجی کہتے ہیں۔کہ تاریخ کی کاپی ڈھائی آنے والی لاؤ اور جغرافیہ کی چار آنے والی۔اور فلاں مضمون کی اتنے والی۔وہ آگئیں تو معلوم ہوا کہ کبھی استعمال ہی نہیں کی گئیں۔پھر مہینہ بعد اور طرح کی کاپیاں وغیرہ لانے کا حکم ہوگیا۔غرض ایک ٹوئٹ ہے جو تعلیم دینے والوں کی معرفت لڑکوں اور لڑکیوں کے والدین پر پڑتی ہے بسکولوں کی کتابوں۔اور فیسوں کے علاوہ یہ مصیبت جونک کی طرح ان کا خون چوستی ہے۔حالانکہ ہماری جماعت کے استاد اگر تحریک جدید کے ماتحت اس پر غور کریں تو لوگوں کو بہت ساری بچیت ہو سکتی ہے۔حساب کا تمام رف کام سلیٹوں پہ ہو سکتا ہے۔اور ہر کاپی کے ورقوں کے دونوں طرف کھا جاسکتا ہے۔ایک کاپی پر دو دو مضمونوں کے نوٹ آسکتے ہیں۔غرض کا غذ سیاہی قلم پنسلوں وغیرہ کے متعلق جور تم خرچ ہوتی ہے وہ ایک روپیہ میں سے بارہ آنے پر اکتی ہے۔اس اسراف میں طالب علموں کا بھی برابر کا قصور ہے لیکن اُستاد جہاں اس بات کا ذمہ دار ہے کہ لڑ کا ترقی کرے۔وہاں اس بات کا بھی اخلاقی طور پر ذمہ دار ہے کہ اس کے اخراجات نا مناسب نہ ہوں۔بہر حال اگر اس پر چیک رکھا جائے اور استاداد در طلبہ ادھر توجہ دیں۔تو والدین کی ایک معقول رقم بچ سکتی ہے