مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 54
۵۴ پھر فرمایا کے ساتھ اپنے تمام اسماء کا مظہر پیدا کیا تا کہ میں معرفین کو طریقہ خالصہ محمدیه کی دعوت دول به اور یہ نسبت محمدیہ الخاصہ حضرت امام موعود علیہ السلام کی ذات پاک پرختم ہو گی اور تمام جہان ایک نور سے روشن ہوگا اور اس نیر اعظم کے انوار میں سب فرقوں کے ستاروں کی روشنی گم ہو جائے گی۔میخانه درد ر منقول از سیرت اماں جان نصرت جہاں بیگم از شیخ محمود احمد عرفانی پشت در پشت صالحین کے اس سلسلے کے انتہائی خوش نصیب بزرگ حضرت نیر ناصر نواب اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہوا انداز اس ماہ میں پیدا ہوئے ، خاندانی ولایت و سجادگی ، فطری نیکی، اور فانی اللہ والدین کی تربیت نے آپ کو نکیسر رو بتجدا کر دیا۔آپ کی والدہ اتنی نیک خاتون تھیں کہ قدر کی در بدری میں گھر سے صرف قرآن پاک اٹھایا تھا۔حضرت میر ناصر نواب کی سولہ برس کی عمر میں سادات گھرانے میں محترمہ سید بیگم صاحبہ سے شادی ہوئی وہ بھی معروف خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ان کے خاندان کے ایک بزرگ میرزا خواد بیگ ایران سے آئے تھے۔اُن کے بیٹے نذر محمد بیگ کی بڑی بیٹی قادری بیگم کے ہاں پیدا ہوئیں۔ان کا خاندان بہت پھیلا ہوا تھا۔مرزا غالب کے خاندان کو ہارو والوں سے بھی قرابت داری تھی۔ان کے نصیب میں مسیحائے وقت سے مہری تعلق جوڑنا لکھا تھا۔ان کے ہاں تیرہ بچے ہوئے جن میں سے تین زندہ رہے بڑا اور میں پہلی بیٹی نصرت جہاں پیدا ہوئیں ہوا ہی بشارتوں اور سامانوں سے حضرت مسیح موعود کے عقد میں آئیں۔۱۸ جولائی منشاء کو ایک بیٹا پیدا ہوا۔حضرت میر ناصر نواب کو مشہور اہل حدیث مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی سے عقیدت تھی اپنے بیٹے کو ملانے کے لئے لے گئے