مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 52
۵۲ نانی اللہ بزرگ گزرے ہیں۔آپ دنیادی وجاہتوں سے کنارہ کشی اختیار کر کے ذکر الہی میں مستغرق ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو لڈیا د کشوف سے نوازا۔ایک کشف میں آپ کو ایک بزرگ ملے اور فرمایا۔میں حسن مجتبی بن علی مرتضیٰ ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وستم کے منشاء کے ماتحت تمہارے پاس آیا ہوں تا تجھے ولایت اور معرفت سے مالا مال کروں۔۔۔۔۔ایک خاص نعمت جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے رکھی متقی اور اس کی ابتدا تجھ پر ہوئی ہے اور انجام اس کا مہدی موجود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہو گا۔(میخانه در وص۳۷) اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق کا اندازہ آپ کی تصنیف نالۂ عندلیب کے اس بیان سے ہوتا ہے۔میری یہ کتاب الہامی کتاب ہے اور میں نے جو کچھ اس میں لکھا ہے وہ مکاشفہ اور معائنہ سے کیا ہے اور خوبی یہ ہے کہ تمام مکاشفے اور الہام قرآن پاک اور حدیث صاحب اولاگ کے مطابق اور موافق ہیں اور مرکز شراعیت سے بال برابر ادھر اُدھر نہیں۔ایک دفعہ آپ کو یہ الہام ہوا۔( ناله عندلیب (صلاة) ہم نے تمھارے نام کو پسند فرما لیا اور تمھاری اولاد اور تمھارے معتقدین اور مریدوں کے لئے اس میں دونوں جہان کی برکات داخل فرما دیں جو شخص از راہ عقیدت لفظ ناصر کو اپنے یا اپنی اولاد کے نام میں شامل کرے گا اس کی برکت سے ہمیشہ منظفر و منصور رہے گا اور آتش دوزخ