مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 51
اه ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ خدائے رحمان کا عطا کہ وہ سب سے بڑا اعزاز جو حضرت میر محمد اسمعیل ( اللہ آپ سے راضی ہو) کو عطا ہوا وہ مہدی معہود مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی آپ پر سلامتی ہو) کا برادر نسبتی ہوتا ہے۔رفقائے مسیح میں شمولیت کی سعادت اور پھر قرابت داری منفرد نعمت غیر مترقبہ ہے۔آپ اُس مبارک خاتون کے بھائی ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نے " میری نعمت میری خدیجہہ قرار دیا۔أشكرُ نِعْمَتِي رَأَيْتَ خَدِيجَتِي میرا شکر کہ کہ تو نے میری خدیجہ کو پایا۔(براہین احمدیہ مت ۵۵) خالق ارض و سماء کی بسیط حکمتوں سے الجوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانیوں سے اُن کی نسل میں فخر الانبیاء حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا خیر البشر پیدا ہوا۔پھر آپ کی جگر گوشہ حضرت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے پیدا ہونے والے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حضرت اسمعیل علیہ السلام جیسی قربانیاں پیش کرنے کی توفیق ملی۔جیس کی قبولیت کا ایک رنگ آپ کی نسل میں صالحین کے سلسلوں کی صورت میں ظاہر ہوا۔رو حضرت میر محمد اسمعیل صاحب حضرت امام حسین علیہ السلام کی چوالیسویں پشت اور خواجہ میر درد کی پانچویں پشت سے تھے گویا آپ کا خاندان حسینی سادات تھا جس میں کئی با خدا امام اور ولی اللہ پیدا ہوئے۔بارہویں صدی ہجری میں حضرت خواجہ محمد ناصر دہلوی بہت بڑے