مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 473 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 473

بھائی۔ذرا اپنے بھتیجے کا حال تو سنو۔اور پھر اپنی رائے دو۔ورقہ نے حال پوچھا۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب واردات بیان فرمائی۔ورقہ نے سن کر کہا۔کہ اسے محمد یہ تو وہ فرشتہ ہے جسے اللہ نے موسیٰ " پر نازل کیا تھا۔اے کاش میں آپ کے نبوت کے زمانہ میں جوان ہوتا۔اسے کاش کہ میں اس وقت تک زندہ ہی رہتا۔جب آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کیا سچ مچ یہ لوگ مجھے یہاں سے نکال دیں گے۔اور قرتے کہا۔ہاں۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے۔ہمیشہ لوگ آپ جیسے نبیوں سے دشمنی کرتے ہیں۔اور اگر میں زندہ رہا تو انشا اللہ پوری طاقت کے ساتھ آپ کی مدد کروں گا۔مگر افسوس کہ چند روز کے بعد ہی درقہ کی وفات ہو گئی۔اور وحی کا آنا بھی کچھ مدت کے لئے رک گیا۔دوسری دفعہ پھر حضرت جائزہ فرماتے ہیں۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دفعہ وحی آنے کے بعد اس کے رُک جانے کا حال بیان فرمانے لگے۔تو فرمایا کہ ایک دن میں چلا جارہا تھا۔کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی۔اوپر نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو فار ہوا میں کیے پاس آیا تھا۔آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔میں ڈر گیا۔گھر کو واپس آیا اور کہنے لگا کہ کمبل اوڑھاؤ کمبل اوڑھاؤ۔اس وقت اللہ تعالٰی نے یہ دھی نازل فرمائی۔يايها المدثر قمْ فَاحْدِرُهُ رَبِّكَ فَكَبْنه ثِيَابَكَ فَطَهِرُ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ ) (سوره مدثر ۲ - ۲) یعنی اسے کپڑا اوڑھنے والے کھڑا ہو۔اور لوگوں کو ڈرا اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کرہ اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھ اور ہر ناپاکی کو چھوڑ رہے۔اس کے بعد آپ نے فرمایا۔کہ وحی کی آمد خوب گرم ہوگئی اور لگا تار آنے لگی۔